اغوا، تشدد اور مبینہ ریپ کا نشانہ بننے والی خواتین پاکستانی جھنڈا ساتھ لے کر گئیں: پنجاب پولیس
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں اغوا، تشدد، اور مبینہ ریپ کا نشانہ بننے والی غیرملکی خواتین کے بارے میں پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ تفتیش سے مطمئن تھیں اور اپنے ملکوںکو واپس جاتے ہوئے پاکستانی جھنڈے ساتھ لے کر گئیں-
اتوار کو لاہور میں پریس کانفرنس میں ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے کہا کہ کیس کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کو نہیں دیا جا رہا بلکہ لاہور پولیس ہی اس کی تفتیش جاری رکھے گی کیونکہ یہ اُن کے دائرہ کار میں آتا ہے-
پولیس افسر نے بتایا کہ پاکستان میں ’وینزویلا کا سفارت خانہ نہیں ہے اس لیے پولیس نے ڈچ سفارت خانے سے رابطہ رکھا۔ دونوں غیرملکی خواتین کے ایئر ٹکٹس کی تبدیلی کا خرچ بھی لاہور پولیس نے ادا کیا جبکہ مجسٹریٹ کے سامنے عدالت میں بیان ریکارڈ کرائے جانے کے وقت بھی ڈچ آنریری قونصل جنرل کو بلایا گیا تھا۔‘
ڈی آئی جی نے دعوی کیا کہ دونوں غیرملکی خواتین پنجاب پولیس کی تفتیش سے اتنی خوش اور مطمئن تھیں کہ اور واپس روانگی کے وقت ایئرپورٹ پر انہوں نے پاکستان کا جھنڈا ساتھ لے جانے کی خواہش کا اظہار کیا جو رات ساڑھے تین بجے اُن کے لیے منگوا گیا۔
پریس کانفرنس میں ڈی آئی جی نے بتایا کہ بازیابی کے آخری مرحلے میں جب خواتین ’فلٹر ہاؤس‘ نامی مقام پر پہنچیں تو اے ایس پی ڈیفنس موقع پر پہنچے جس کے بعد ایس پی کینٹ نے مرکزی ملزم رضا ڈار کو گرفتار کیا۔ یہ معاملہ سی سی پی او لاہور، آئی جی پنجاب اور حکومت کے نوٹس میں بھی لایا گیا تھا۔
ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ کیس میں مرکزی ملزم کے علاوہ ’باس‘ کے نام سے پکارے جانے والے شخص کی شناخت وحید کے نام سے ہوئی ہے جس کوگرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ اس کے مسلح ساتھی بھی حراست میں ہیں۔
ان کا دعویٰ تھا کہ چار مزید ملزمان کی گرفتاری کے بعد اس کیس میں مجموعی طور پر 8 افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔