خیبر پختونخوا کے مراعاتی قانون پر تنقید کے بعد وزیراعلٰی سہیل آفریدی کی پسپائی؟
ارکان اسمبلی، سپیکر، ڈپٹی سپیکر کی تنخواہوں و مراعات میں اضافے کے خیبر پختونخوا اسمبلی سے منظور کیے گئے قانون پر شدید تنقید کے بعد وزیراعلٰی سہیل آفریدی نے نظرثانی کرنے کی ہدایت کی ہے-
خیبر پختونخوا صوبائی اسمبلی (اختیارات، استحقاقات اور مراعات) ایکٹ 2026 کا مقصد اسمبلی، اس کے ارکان اور کمیٹیوں کے اختیارات، استحقاقات، مراعات اور قانونی تحفظات کو ازسرِ نو مرتب کرنا ہے۔
اس قانون کے تحت ارکان اسمبلی، سپیکر، ڈپٹی سپیکر اور اسمبلی کی کمیٹیوں کے اختیارات میں اضافہ کیا گیا ہے جبکہ متعدد نئی مراعات بھی شامل کی گئی ہیں۔
قانون کے تحت ارکان اسمبلی اور ان کے شریک حیات کو بلیو (آفیشل) پاسپورٹ جاری کیا جا سکے گا جبکہ شریک حیات کے لیے اس سہولت کو تاحیات رکھنے کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔ تاہم اس کا نفاذ وفاقی قوانین اور منظوری سے مشروط ہوگا۔
خیال رہے کہ بلیو پاسپورٹ وفاقی حکومت جاری کرتی ہے اس لیے صوبائی قانون کا یہ حصہ وفاقی وزارت داخلہ یا وفاقی کابینہ کی منظوری سے مشروط ہے-
ارکان اسمبلی کو ٹول ٹیکس کی ادائیگی سے استثنی دیا گیا ہے اور انھیں سرکاری یا مخصوص رہائش گاہ میں مفت رہائش فراہم کرنے کی قانونی گنجائش بھی شامل کی گئی ہے۔
قانون کے مطابق ارکان اسمبلی چار اسلحہ لائسنس حاصل کر سکیں گے، جن میں دو مفت جبکہ دو مقررہ فیس کے ساتھ جاری کیے جا سکیں گے۔ سکیورٹی خدشات کی صورت میں انھیں کیٹیگری بی سکیورٹی اور ضرورت پڑنے پر سکیورٹی عملہ فراہم کیا جا سکے گا۔
اس قانون کے مطابق خیبر پختونخو اسمبلی کے ارکان کو ملک بھر میں، بشمول گلگت بلتستان اور کشمیر، اپنے ساتھ سکیورٹی عملہ لے جانے کی اجازت ہوگی۔
اسی طرح ارکان کو اپنی گاڑیوں کے شیشے کالے کرنے، کلبز کی رکنیت حاصل کرنے، خصوصی سرکاری شناختی کارڈ رکھنے اور اپنی ذاتی گاڑی پر اسمبلی کا مونوگرام یا مخصوص نمبر پلیٹ استعمال کرنے کی سہولت بھی دی گئی ہے۔
اس قانون میںایک ایسی شق بھی شامل کی گئی ہے جس کے تحت ارکان اسمبلی کو ’جسٹس آف پیس‘ یعنی مجسٹریٹ کے اختیارات استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
قانون کی اس شق کے تحت وہ عوامی شکایات سن کر متعلقہ سرکاری اداروں، خصوصاً پولیس اور ضلعی انتظامیہ، کو کارروائی کے لیے سفارش یا ہدایات دے سکیں گے۔
تاہم ارکان صوبائی اسمبلی کا یہ اختیار یہیں تک محدود ہے اور وہ عدالت بن کر کارروائی نہیں کر سکتے-
اس قانون پر نظر رکھنے والے ناقدین اور مبصرین کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر یہ قانون سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے لیے وسیع مراعات تک محدود تھا۔
اس قانون کے تحت صوبائی اسمبلی کے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کی تنخواہ، الاؤنسز اور دیگر مراعات کا تعین اسمبلی کی فنانس کمیٹی کرے گی۔
انھیں سرکاری رہائش یا اس کے متبادل اخراجات، ہاؤس الاؤنس، میڈیکل، ٹیلی فون، انٹرنیٹ، سفری، بیرون ملک سفر اور دیگر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
سپیکر کو دو سرکاری فلیگ گاڑیاں اور ایک بکتر بند گاڑی جبکہ ڈپٹی سپیکر کو دو سرکاری گاڑیاں مل سکیں گی۔
دونوں کی سرکاری رہائش گاہوں کی دیکھ بھال، بجلی اور گیس کے اخراجات بھی حکومت برداشت کرے گی۔
اس قانون میںاراکین صوبائی اسمبلی کی تنخواہوں اور الاؤنسز کی رقم مختص نہیں کی گئی تاہم کہا گیا ہے کہ اس کو بھی فنانس کمیٹی مقرر کرے گی۔
مراعات کے تحت ہاؤس رینٹ، یوٹیلٹی، کنوینس، ٹیلی فون، میڈیکل، سیشن، سفری اور آفس مینٹیننس سمیت مختلف الاؤنسز کی قانونی گنجائش شامل کی گئی ہے۔
قانون میں اپوزیشن لیڈر کو بھی خوش رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے درج کیا گیا ہے کہ قائد حزب اختلاف کی مراعات صوبائی وزیر کے برابر ہوں گی۔
قانون میںاسمبلی اور سپیکر کو عدالتی اختیار دیے گئے ہیں-
نئے قانون کے تحت سپیکر کو اسمبلی کی کارروائی، احاطے اور نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے وسیع اختیارات حاصل ہوں گے۔ اسمبلی استحقاق کی خلاف ورزی پر قید اور جرمانے کی سزا بھی دے سکے گی جبکہ ایسے مقدمات سننے کے لیے اسمبلی کی جوڈیشل کمیٹی کو قانونی اختیار دیا گیا ہے۔
اس قانون کے تحت سپیکر کسی صحافی، اخبار یا میڈیا ادارے کی اسمبلی کی کارروائی تک رسائی محدود یا ختم کر سکتا ہے۔
اسی طرح اسمبلی یا اس کی کمیٹیوں کی کارروائی سپیکر کی اجازت کے بغیر شائع یا رپورٹ کرنے پر کارروائی کی جا سکتی ہے۔ اور اگر کسی صحافی کی اسمبلی کوریج کی اجازت واپس لے لی جائے تو اس کے بعد اس کی رپورٹنگ جرم تصور ہو سکتی ہے۔
اسمبلی کی کارروائی کی توہین، غلط رپورٹنگ، استحقاق مجروح کرنے والی اشاعت یا کمیٹی رپورٹ کو قبل از وقت شائع کرنے پر قید اور جرمانے کی سزائیں بھی رکھی گئی ہیں۔
اس قانون کی ایک مثبت چیز اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کے اختیارات میں اضافہ ہے۔ ضلعی اور دیگر سرکاری افسران کو ارکان اسمبلی یا متعلقہ کمیٹیوں کی طلبی پر اجلاسوں میں شرکت کا پابند بنایا گیا ہے، جس سے کمیٹیوں کی نگرانی اور احتسابی صلاحیت میں اضافہ ممکن ہے۔