بلوچستان میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے مزدوروںپر فائرنگ، پانچ اموات
بلوچستان کے ضلع واشک میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے پنجاب سے تعلق رکھنے والے پانچ افراد کو قتل کردیا ہے۔
وزیراعلٰی سرفراز بگٹی نے واقعے میں اموات پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’وہ صرف پنجابی مزدور نہیں تھے وہ پاکستان کے شہری، محنت کش اور ہمارے بھائی تھے۔‘
اتوار کو ایک بیان میں انہوں نے مزید کہا کہ ’ان معصوم شہریوں پر حملہ کسی ایک صوبے یا قومیت پر نہیں بلکہ پاکستان کی وحدت، آئین اور ریاست پر حملہ ہے۔‘
ڈپٹی کمشنر واشک مجید سرپرہ نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ واقعہ اتوار کو ایرانی سرحد سے متصل واشک کے علاقے ماشکیل میں پیش آیا۔
واقعے میں کالعدم بلوچ مسلح تنظیموں کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے جو اس سے قبل بھی اس طرز کی وارداتوں کی ذمہ داری قبول کرتی رہی ہے، تاہم تازہ واقعہ کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی۔
ڈپٹی کمشنر کے مطابق ’مسلح افراد نے اُن دُکانوں پر فائرنگ کی جہاں پنجابی مزدور کام کرتے تھے۔‘
انہوں نے بتایا کہ فائرنگ کے نتیجے میں پانچ افراد جان سے گئے۔ پانچوں کا تعلق پنجاب کے مختلف علاقوں سے تھا۔ فائرنگ کے بعد حملہ آور فرار ہوگئے۔
ضروری کارروائی کے بعد مقتولین کی لاشیں آبائی علاقوں کو روانہ کی جا رہی ہیں۔
وزیراعلٰی کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق ’آزادی کی نام نہاد تحریک کا لبادہ اوڑھنے والے دہشت گرد نہتے مزدوروں کو نشانہ بنا کر اپنے مکروہ عزائم دنیا کے سامنے بے نقاب کر چکے ہیں۔‘
سرفراز بگٹی کہتے ہیں کہ ’دہشت گردوں کا مقصد کسی حق کی جدوجہد نہیں بلکہ دہشت، نفرت، خونریزی اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنا ہے۔‘
’ریاست دشمن عناصر اور ان کے سہولت کاروں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا، پاکستانی شہریوں کے خون کے ہر قطرے کا حساب لیا جائے گا۔‘
وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ ’دہشت گردی میں ملوث ہر مجرم کو انجام تک پہنچایا جائے گا، ریاست کی رِٹ پر حملہ کرنے والوں کے خلاف فیصلہ کُن کارروائی ہوگی۔‘
’پاکستان کی ریاست دہشت گردی کے سامنے نہ کبھی جھکی ہے، نہ جھکے گی، آخری دہشت گرد کے خاتمے تک یہ جنگ پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گی۔‘