اہم خبریں

معاہدہ طے پا گیا، زیارت میں‌ مارے گئے پولیس اہلکاروں کی لاشوں‌ کے ہمراہ دھرنا ختم

جولائی 18, 2026

معاہدہ طے پا گیا، زیارت میں‌ مارے گئے پولیس اہلکاروں کی لاشوں‌ کے ہمراہ دھرنا ختم

بلوچستان حکومت نے کہا ہے کہ ضلع زیارت میں‌ شدت پسندوں کے حملے میں‌ مارے گئے پولیس اہلکاروں کے لواحقین کی جانب سے دیے گئے دھرنے کے شرکا سے معاہدہ طے پا گیا ہے-

سرکاری اعلامیے کے مطابق سانحہ زیارت کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے پر اتفاق کیا گیا جبکہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی سربراہی میں امن و امان کی صورتحال پر اپوزیشن جماعتوں اور مارے جانے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوگا۔

شدت پسندوں کے حملے میں 30 پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد ان کے لواحقین نے نو جولائی سے کوئٹہ میں دھرنا دے رکھا تھا اور یہ لوگ عدالتی کمیشن کے ذریعے تحقیقات کا مطالبہ کر رہے تھے۔

گذشتہ ہفتے زیارت میں مانگی ڈیم کی فیز تھری کنسٹرکشن سائٹ پر نامعلوم مسلح افراد نے ایک بڑا حملہ کیا تھا جس میں حکام کے بقول دو ایس ایچ اوز سمیت نو پولیس اہلکار موقع پر مارے گئے تھے جبکہ 21 کو اغوا کیا گیا۔

حکام نے بتایا تھا کہ اِن یرغمالی پولیس اہلکاروں کی بازیابی کے لیے سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران شدت پسندوں نے یرغمالیوں کو ہلاک کر کے ان کی لاشیں زرغون غر کے علاقے میں پھینک دی تھیں۔

جمعے کو رات گئے حکومتی مذاکراتی ٹیم کے اراکین پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل عبدالرحیم زیارتوال کی رہائش گاہ پہنچےجہاں معاہدے پر دستخط ہوئے جبکہ اس موقع پر حکومتی ٹیم کے اراکین اور آل پارٹیز کے رہنماؤں نے خطاب بھی کیا۔

قبل ازیں‌ اپنے رشتہ دار پولیس اہلکاروں کی لاشوں کے ہمراہ احتجاج میں شریک کوئٹہ کے شمس الزمان نے کہا تھا کہ ’آج زیارت کی ہر گلی، ہر کوچہ سوگوار ہے۔ ہمارے بھائی اور رشتہ دار انتہائی بے بسی کی حالت میں موت کے منہ میں چلے گئے۔‘

دھرنے کے شرکا کا موقف تھا کہ ’ایک، دو ٹینکیوں کی حفاظت کے لیے ہمارے پیاروں کی ایک بڑی تعداد کو مناسب انتظام اور تیاری کے بغیر ضلع کے مختلف علاقوں سے بھیج دیا گیا۔‘

اپنے بھائی آصف خان کی لاش کے ہمراہ دھرنے میں شریک صابر خان کا دعویٰ تھا کہ ’ہمارے پیارے چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے کہ ہمیں گولیاں پہنچا دو لیکن وہ نہیں پہنچائی جا سکیں جس کی وجہ سے وہ سب موت کی منھ چلے گئے۔‘

دھرنا کمیٹی کے رکن عبد الفیاض کا دعوی کیا کہ ’ہم اپنے پیاروں سے رابطے میں تھے جو یہ کہہ رہے تھے کہ اسلحہ اور گولیوں کی کمی کی وجہ سے ہم موت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں لیکن ان کو مدد نہیں پہنچائی جا سکی۔‘

بلوچستان کی صوبائی حکومت نے متاثرین اور لواحقین نے ان تاثرات کو مسترد کر دیا تھا کہ کمک نہیں‌ پہنچائی گئی تھی-

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے