اہم

ٹانک میں‌ پولیس اور فوج کی مشترکہ چیک پوسٹ پر خودکش حملے میں‌ 15 اموات

جولائی 24, 2026

ٹانک میں‌ پولیس اور فوج کی مشترکہ چیک پوسٹ پر خودکش حملے میں‌ 15 اموات

پاکستان میں صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع ٹانک میں پولیس اور فوج کی ایک مشترکہ چیک پوسٹ پر شدت پسندوں کے خودکش حملے میں 15 اہلکار مارے گئے ہیں۔

مارے جانے والوں میں، 12 فوجی، دو پولیس اہلکار اور محکمہ جنگلات کا ایک ملازم شامل ہے۔

مشترکہ چیک پوسٹ ’مانچھی خیل‘ پر شدت پسندوں نے جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب حملہ کیا۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی پریس ریلیز کے مطابق حملہ آوروں نے بارودی مواد سے بھری ایک گاڑی کو چیک پوسٹ کی حفاظتی دیوار سے ٹکرا دیا اور دھماکے کی شدت سے ’چیک پوسٹ کا بنیادی ڈھانچہ بُری طرح متاثر ہوا۔‘

آئی ایس پی آر کا دعویٰ ہے کہ جمعرات کی شب حملہ آوروں نے ابتدائی طور پر چیک پوسٹ کی سکیورٹی بریچ کرنے کی کوشش کی تاہم سکیورٹی فورسز کی جانب سے اس حملے کو ناکام بنایا گیا اور اس دوران فرار ہونے والے شدت پسندوں کا تعاقب کر کے انھیں نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 12 شدت پسند ہلاک ہوئے۔

پاکستانی فوج کے مطابق ’حملہ آوروں نے اپنی ناکامی اور بوکھلاہٹ میں بارودی مواد سے بھری ایک گاڑی کو چیک پوسٹ کے حفاظتی احاطے کی دیوار سے ٹکرا دیا‘ جس کے نتیجے میں 12 فوجی اہلکاروں سمیت چیک پوسٹ پر موجود 15 افراد کی ہلاکت ہوئی۔

نمائندہ بی بی سی عزیز اللہ خان کے مطابق چیک پوسٹ پر ہوئے اس حملے کے نتیجے میں مانجھی خیل چیک پوسٹ مکمل طور پر منہدم ہو گئی ہے جبکہ حملے کے فوراً بعد زخمی اہلکاروں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔

دوسری جانب سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے ضلع بھر میں سیکش 144 نافذ کر دیا ہے، جبکہ شہریوں سے گھروں میں رہنے اور غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ اس موقع پر اس عزم کا اظہار بھی کیا گیا کہ شدت سپندوں کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

یاد رہے کہ جمعہ کی دوپہر پولیس لائن ٹانک میں ہلاک ہونے والے دو پولیس اہلکاروں، کانسٹیبل بلال خان اور کانسٹیبل طلا محمد، اور محکمہ جنگلات کے فارسٹ گارڈ نور اعظم کی نمازِ جنازہ سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی گئی۔

نمازِ جنازہ میں انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید سمیت سرکاری و سیاسی شخصیات نے شرکت کی۔

آئی جی خیبر پختونخوا نے اس سے قبل شدت پسندوں کے اس حملے میں زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں کانسٹیبل عصمت اللہ، کانسٹیبل جسیم خان، کانسٹیبل داؤد خان اور کانسٹیبل پیر غلام کی عیادت کی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے