سرحد پار دہشت گردی اور چِپ کنڈکٹرز، انڈین وزیر دفاع کے بیان پر پاکستان کا سخت ردعمل
پاکستان نے انڈیا کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے پاکستان اور اِس کے زیر انتظام کشمیر سے متعلق حالیہ بیان کو ’اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ‘ قرار دیا ہے-
پاکستان کی وزارت خارجہ نے ردعمل میں کہا ہے کہ انڈیا کے وزیر دفاع کا بیان نہ صرف اقوام متحدہ اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ جموں و کشمیر تنازع سے متعلق حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے بلکہ یہ انڈین حکومت کی اُس پالیسی کو بھی ظاہر کرتا ہے جس کا مقصد علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کو خطرے میں ڈالنا ہے۔
’جموں و کشمیر پر انڈیا کے مسلسل قبضے، خطے بھر میں دہشت گردی کی سرپرستی اور داخلی عدم استحکام سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔‘
انڈیا کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اتوار کے روز لداخ کے علاقے دراس میں سنہ 1999 میں ہونے والی کارگل جنگ کی یاد میں منعقدہ ایک تقریب ’وجے دیوس‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’پاکستان نے دہشت گردی کو اپنی ریاستی پالیسی کا حصہ بنا رکھا ہے‘ اور یہ کہ پاکستان کے ساتھ اِس کے ’زیر قبضہ کشمیر‘ کے علاوہ کسی اور معاملے پر کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔
اس موقع پر انڈین وزیر دفاع نے پاکستان کو کسی بھی قسم کی مہم جوئی سے باز رہنے کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کسی بھی کوشش کا جواب ’آپریشن سندور‘ کی طرز پر دیا جائے گا۔
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہوئے شدت پسندوں کے حملے کے ردعمل میں مئی 2025 میں انڈیا کی جانب سے پاکستان کے خلاف کی گئی کارروائی کو انڈیا میں سرکاری سطح پر ‘آپریشن سندور’ کا نام دیا گیا تھا۔
راج ناتھ سنگھ نے مزید کہا کہ انڈیا کی خودمختاری کے خلاف کی جانے والی ہر مذموم کارروائی کا اسی عزم کے ساتھ جواب دیا جائے گا جس کا مظاہرہ انڈین مسلح افواج نے آپریشن سندور کے دوران دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کے خلاف غیر معمولی بہادری سے کیا۔
انڈین وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ کارگل جنگ کے بعد سے انڈیا اور پاکستان کے راستے یکسر مختلف ہو چکے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’جہاں انڈیا جدت کے نئے راستے تلاش کر رہا ہے، وہیں پاکستان دراندازی کے نئے طریقے ڈھونڈ رہا ہے۔ انڈیا چِپ ڈیزائننگ میں مصروف ہے جبکہ پاکستان دہشت گردی کے منصوبے تیار کر رہا ہے۔ انڈیا ایک مضبوط سٹارٹ اپ نظام قائم کر رہا ہے جبکہ پاکستان دہشت گردی کا نظام تشکیل دے رہا ہے۔ انڈیا سیمی کنڈکٹرز تیار کر رہا ہے جبکہ پاکستان خودکش بمبار تیار کر رہا ہے۔ انڈیا خلائی مشنز کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے جبکہ پاکستان پراکسی مشنز چلا رہا ہے۔‘
انھوں نے مزید الزام عائد کیا کہ جہاں پاکستان سرحد پار دہشت گرد بھیجنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، وہیں انڈیا خلا میں سیٹلائٹس بھیج رہا ہے۔
پاکستان نے انڈین وزیر دفاع کے اس بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’جارحیت اور مخاصمت پر مبنی گمراہ کن بیانیے کا سہارا لیتے ہوئے انڈیا کو پاکستانی عوام اور حکومت کے غیر متزلزل عزم و ارادے کو کم نہیں سمجھنا چاہیے۔‘
پاکستانی وزارت خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’پاکستان کسی بھی انڈین مہم جوئی کا مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت اور عزم رکھتا ہے، جس کا مظاہرہ گذشتہ سال آپریشن بنیان المرصوص (آپریشن سندور کے جواب میں کی گئی پاکستانی کارروائی) کے دوران پوری پاکستانی قوم اور مسلح افواج نے کیا تھا۔‘
اپنے بیان میں پاکستانی وزارت خارجہ نے بین الاقوامی برادری، بالخصوص اقوام متحدہ، پر زور دیا ہے کہ وہ انڈیا کے مسلسل غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل کا نوٹس لے اور اسے متعلقہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد میں ناکامی پر جوابدہ ٹھہرائے۔ اُن قراردادوں پر جن کے تحت کشمیری عوام کو حقِ خود ارادیت کی ضمانت دی گئی ہے۔