انڈیا میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ’انرجی ڈرنکس‘ کے خلاف کریک ڈاؤن کی وجہ کیا؟
انڈیا میں حکومت نے مشروبات بنانے والی ملٹی نیشنل کو حکم دیا ہے کہ وہ زیادہ کیفین والی ڈرنکس کو انرجی ڈرنکس کے نام سے فروخت کرنے کے کام کو فوری طور پر روک دیں-
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے دستاویزات اور ذرائع کے مطابق اس حوالے سے رپورٹ میں کہا ہےکہ ملٹی نیشنل مشروبات کمپنیاں چاہ رہی ہیں کہ انڈیا میں ریگولیٹری یعنی سرکاری مداخلت بند کی جائے تاکہ اس صنعت کے مارکیٹ حجم کو سنہ 2028 تک ایک ارب 60 کروڑ ڈالر تک لے جایا جا سکے-
انڈیا کے فوڈ سیفٹی ریگولیٹر نے جولائی کے اوائل میں سوشل میڈیا پر بتایا تھا کہ اس نے کمپنیوں کو نوٹس جاری کیا اور کہا کہ اس طرح کی مصنوعات کے لیے کوئی انڈین معیار نہیں ہے اور یہ دعوے کہ مشروب "جسم اور دماغ کو متحرک کرتا ہے” یا "عمومی کمزوری ختم کرنے میں مدد کر سکتا ہے” گمراہ کن ہیں۔
فوڈ سیفٹی ریگولیٹر نے اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
خفیہ دستاویزات اور معاملے سے واقف لوگوں کے مطابق نجی طور پر فوڈ سیفٹی اینڈ سٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (FSSAI) کا پیغام اس سے بھی زیادہ سخت تھا جس میں پیپسی کو، ریڈبُل بنانے والی کمپنی،ارب پتی مکیش امبانی کی ریلائنس کمپنی اور دیگر کو انرجی ڈرنکس اور اس سے ملتے جلتے ناموں کے استعمال سے ترغیب دینے کو روکنے کے لیے کہا گیا تھا۔
اس اقدام نے کمپنیوں کو مشکل کا شکار کر دیا ہے جنہیں ڈر ہے کہ انرجی ڈرنکس کے لیبل کو ہٹانے سے فوری توانائی کے دعووں کے ارد گرد بنائے گئے برانڈز کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور فروخت میں خلل پڑ سکتا ہے۔
جمعے کو صنعت کے سینئر ایگزیکٹوز کے ساتھ بند کمرے کی میٹنگ میں فوڈ سیفٹی کے چیف ایگزیکٹیو رجیت پنہانی نے کاروباری اثرات پر دلائل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کمپنیاں اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرنے کے لیے آزاد ہیں۔

