پاکستان اور امریکہ کا داعش خراسان، القاعدہ، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے خلاف تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق
واشنگٹن: سید فیصل علی
پاکستان اور امریکا نے داعش خراسان، القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان اور بلوچستان لبریشن آرمی سمیت دہشت گرد تنظیموں کے خلاف انسدادِ دہشت گردی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔
پاکستان اور امریکا کے درمیان انسدادِ دہشت گردی مذاکرات کا چوتھا دور 4 اگست 2026 کو واشنگٹن ڈی سی میں منعقد ہوا۔ امریکی وفد کی قیادت انسدادِ دہشت گردی کے رابطہ کار سفیر گریگوری لوگرفو نے کی، جبکہ پاکستانی وفد کی سربراہی وزارتِ خارجہ کے اسپیشل سیکرٹری سفیر نبیل منیر نے کی۔
پاکستانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک کے وفود نے علاقائی اور عالمی سطح پر دہشت گردی کے موجودہ خطرات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا اور دوطرفہ تعاون بڑھانے کے مختلف امکانات کا جائزہ لیا۔
مذاکرات میں سرحدی سلامتی مضبوط بنانے اور دہشت گرد تنظیموں کو مالی، لاجسٹک اور عملی معاونت فراہم کرنے والے سہولت کاری کے نیٹ ورکس کو توڑنے کے اقدامات بھی زیرِ غور آئے۔
پاکستان اور امریکا نے داعش خراسان، القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان، بلوچستان لبریشن آرمی اور ان سے منسلک گروہوں کا مقابلہ کرنے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں ممالک کے مطابق یہ تنظیمیں شہریوں کی سلامتی اور خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔
دونوں حکومتوں نے اپنے ممالک کو محفوظ بنانے اور خطے میں دیرپا امن، خوش حالی اور استحکام کے مشترکہ وژن کو آگے بڑھانے کے لیے انسدادِ دہشت گردی تعاون برقرار رکھنے اور اسے مزید گہرا کرنے کا عہد بھی کیا۔
ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور داعش خراسان کا پس منظر
تحریک طالبان پاکستان مختلف شدت پسند دھڑوں کا اتحاد ہے، جو 2007 میں قائم ہوا اور بنیادی طور پر پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں سرگرم رہا ہے۔ یہ تنظیم پاکستانی سکیورٹی فورسز، پولیس، سرکاری اداروں اور شہریوں پر متعدد حملوں میں ملوث رہی ہے۔ اقوام متحدہ نے القاعدہ سے تعلق کی بنیاد پر 2011 میں ٹی ٹی پی کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ ٹی ٹی پی کی قیادت اور عملی ڈھانچے کا بڑا حصہ افغانستان میں موجود ہے۔ تاہم افغان طالبان حکومت اپنے علاقے کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت دینے کے الزامات کی تردید کرتی ہے۔
بلوچستان لبریشن آرمی ایک مسلح علیحدگی پسند تنظیم ہے، جو بلوچستان کی پاکستان سے علیحدگی کی حامی ہے۔ اس تنظیم نے سکیورٹی اہلکاروں، سرکاری تنصیبات، ٹرانسپورٹ نیٹ ورکس، شہریوں، چینی باشندوں اور چین پاکستان اقتصادی راہداری سے منسلک منصوبوں کو نشانہ بنایا ہے۔
پاکستان نے بی ایل اے کو کالعدم قرار دے رکھا ہے، جبکہ امریکا نے 2019 میں اسے عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔ بعدازاں اگست 2025 میں امریکا نے بی ایل اے اور اس کی مجید بریگیڈ کو غیرملکی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں بھی شامل کیا۔
داعش خراسان 2015 میں سامنے آئی، جب طالبان اور ٹی ٹی پی سے الگ ہونے والے بعض کمانڈروں نے داعش سے وفاداری کا اعلان کیا۔ یہ تنظیم افغانستان اور پاکستان میں خودکش حملوں اور فرقہ وارانہ کارروائیوں میں ملوث رہی ہے، جن میں اہلِ تشیع، صوفی مزارات، سکیورٹی اہلکاروں، غیرملکی شہریوں اور سیاسی اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا۔
پاکستان کے حالیہ انسدادِ دہشت گردی اقدامات
پاکستان نے جون 2024 میں منظور کیے گئے قومی انسدادِ دہشت گردی منصوبے *عزمِ استحکام* کے تحت دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائیاں تیز کی ہیں۔ اس حکمتِ عملی میں انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشنز، مؤثر عدالتی کارروائی، سرحدی نگرانی، دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام، سفارتی دباؤ اور متاثرہ علاقوں میں معاشی و سماجی اقدامات شامل ہیں۔
پاکستانی فوج کے مطابق 31 جولائی 2026 تک ملک بھر میں 40 ہزار 348 انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن کیے گئے، جن میں 2 ہزار 84 مبینہ دہشت گرد مارے گئے۔ فوج نے اسی عرصے میں دہشت گردی کے 3 ہزار 145 واقعات اور سکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں سمیت 819 ہلاکتوں کی بھی اطلاع دی۔ یہ اعداد و شمار سرکاری طور پر جاری کیے گئے ہیں اور ان میں سے تمام کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائیاں
پاکستان نے خیبرپختونخوا اور سابق قبائلی اضلاع میں ٹی ٹی پی کے کمانڈروں، خودکش حملہ آوروں کے نیٹ ورکس، اسلحہ ذخیرہ کرنے کے مراکز اور مقامی سہولت کاروں کے خلاف متعدد انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں کی ہیں۔
اسلام آباد نے سرحدی انتظامات بھی سخت کیے ہیں اور افغان حکومت سے بارہا مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کے مبینہ ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کرے۔ پاکستان نے بعض مواقع پر افغانستان میں ان مقامات کو بھی نشانہ بنایا جنہیں اسلام آباد نے ٹی ٹی پی کا انفرااسٹرکچر قرار دیا، تاہم افغان حکام نے اہداف اور جانی نقصان سے متعلق پاکستانی مؤقف کے بعض حصوں کو مسترد کیا ہے۔
پاکستان نے ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود سمیت تنظیم کے رہنماؤں کے خلاف اقوام متحدہ کی پابندیوں پر عمل درآمد اور افغان حکام کو باضابطہ احتجاجی مراسلے دینے جیسے سفارتی اقدامات بھی کیے ہیں۔
بی ایل اے کے خلاف اقدامات
بلوچستان میں مسلسل حملوں کے بعد جولائی 2026 میں فوج، فرنٹیئر کور اور پولیس نے *آپریشن شعبان* شروع کیا۔ پاکستانی حکام کے مطابق آپریشن میں بی ایل اے کے جنگجوؤں، خودکش حملہ آوروں کے سیلز، سہولت کاروں اور خفیہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
فوج نے جولائی کے اختتام تک 130 سے زائد مبینہ دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا، تاہم ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
پاکستان نے چینی شہریوں اور سی پیک منصوبوں کی سکیورٹی میں بھی اضافہ کیا ہے، جبکہ صوبائی انٹیلی جنس اداروں کے درمیان رابطہ کاری کو مضبوط بنانے اور اسمگلنگ، بھتہ خوری اور غیرقانونی مالیاتی نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں بھی تیز کی گئی ہیں۔
داعش خراسان کے خلاف اقدامات
داعش خراسان کے خلاف پاکستان نے انٹیلی جنس بنیادوں پر گرفتاریوں اور بین الاقوامی معلومات کے تبادلے پر زیادہ انحصار کیا ہے۔
پاکستانی حکام نے محمد شریف اللہ کی گرفتاری میں مدد کی، جس پر اگست 2021 میں کابل ایئرپورٹ پر ہونے والے خودکش حملے کی منصوبہ بندی میں کردار ادا کرنے کا الزام ہے۔ اسے مارچ 2025 میں امریکا منتقل کیا گیا، جہاں اس کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔
پاکستان نے داعش خراسان کے سینئر ترجمان اور پروپیگنڈا نیٹ ورک سے منسلک سلطان عزیز اعظم کو بھی گرفتار کیا۔ اس گرفتاری کو تنظیم کے بھرتی اور میڈیا ڈھانچے کے لیے ایک اہم دھچکا قرار دیا گیا۔
فروری 2026 میں اسلام آباد کی ایک امام بارگاہ میں خودکش حملے کے بعد پاکستانی حکام نے داعش سے مبینہ تعلق رکھنے والے چار افراد کی گرفتاری کا اعلان کیا تھا، جن میں حملے کا مبینہ منصوبہ ساز بھی شامل تھا۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور داعش خراسان کے خلاف فوجی اور انٹیلی جنس کارروائیوں کے ساتھ سرحدی نگرانی، مالی تحقیقات، سفارتی دباؤ اور عالمی شراکت داروں سے تعاون جاری رکھا جائے گا۔ تاہم خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں شدت پسندی کا مسلسل خطرہ پاکستان کے لیے ایک بڑا سکیورٹی چیلنج بدستور موجود ہے۔

