اہم

طویل فاصلے تک مار کرنے والے امریکی میزائلوں کا ذخیرہ ایران جنگ میں‌ ختم

اگست 5, 2026

طویل فاصلے تک مار کرنے والے امریکی میزائلوں کا ذخیرہ ایران جنگ میں‌ ختم

امریکہ کے پاس فضا میں دفاع کرنے والے انٹرسیپٹرز اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے ذخائر کم ہوتے جا رہے ہیں-

خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے لیے یہ صورتحال تشویش کا باعث بن چکی ہے- ماہرین کا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے ابتدائی مرحلے میں جس رفتار سے امریکہ نے درست نشانہ لگانے والا اسلحہ استعمال کیا، اس رفتار کو برقرار رکھنا اب ممکن نہیں ہے۔

معاملے سے براہ راست آگاہی رکھنے والے ذرائع نے روئٹرز کو بتایا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے دوران امریکہ نے اپنے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے ذخیرے کا تقریباً سارا حصہ استعمال کر لیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے سب سے پہلے یہ خبر دی جس کے بعد امریکی میڈیا نے بھی خبریں نشر کیں کہ آپریشن ایپک فیوری کے دوران امریکہ نے اپنے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کا ’تقریباً سارا‘ ذخیرہ استعمال کر لیا تھا۔

امریکہ کے سی بی ایس نیوز نے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے امریکہ اپنے تقریباً تمام آرمی ٹیکٹیکل میزائل سسٹمز، جنھیں اے ٹی اے سی ایم ایس کہا جاتا ہے، اور پریسیژن سٹرائیک میزائل (ہدف کو درست نشانہ بنانے والے میزائل) استعمال کر لیے ہیں۔

امریکی حکام نے کہا کہ اے ٹی اے سی ایم ایس اور پریسیژن سٹرائیک میزائلوں کی تعداد محدود ہے اور سب سے زیادہ تشویش پیٹریاٹ اور ٹرمینل ہائی آلٹیٹیوڈ ایریا ڈیفنس (تھاڈ) انٹرسیپٹرز کی تعداد کے بارے میں ہے۔ کیوں کہ دفاعی صنعت کی جانب سے ایسے نئے میزائل تیار کرنے کی رفتار سست ہے، جبکہ انھیں استعمال کیے جانے کی رفتار زیادہ ہے۔

سینٹر فار سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز کی جولائی کی ایک رپورٹ کے مطابق جنگ شروع ہونے سے پہلے امریکہ کے پاس 2330 پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز تھے، اور جولائی کے آخر تک ان کی تعداد کم ہو کر 759 سے 827 کے درمیان رہ گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق جنگ سے قبل امریکہ کے پاس 452 تھاڈ انٹرسیپٹرز تھے، جبکہ 27 جولائی تک ان کی تعداد 234 سے 278 کے درمیان رہ گئی تھی۔

سی ایس آئی ایس کی ایک اور حالیہ رپورٹ کے مطابق دونوں اقسام کے ذخائر کو جنگ سے پہلے کی سطح تک واپس لانے میں کم از کم 2029 کے وسط تک کا وقت لگ سکتا ہے۔

پینٹاگون کے چیف ترجمان شان پارنل نے سی بی ایس نیوز کو ایک بیان میں کہا کہ ’امریکہ کی فوج دنیا کی سب سے طاقتور فوج ہے اور اس کے پاس وہ سب کچھ موجود ہے جس کی اسے صدر کی جانب سے منتخب کردہ وقت اور مقام پر کارروائی انجام دینے کے لیے ضرورت ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم نے مختلف جنگی کمانڈز کے تحت متعدد کامیاب آپریشن انجام دیے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی یقینی بنایا ہے کہ امریکی فوج کے پاس اپنے عوام اور مفادات کے تحفظ کے لیے وسیع صلاحیتوں کا ذخیرہ موجود رہے۔‘

وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اس سے قبل امریکی ذخائر سے متعلق خدشات کو مسترد کر چکے ہیں۔

14 جون کو پروگرام ’فیس دی نیشن ود مارگریٹ برینن‘ میں ہیگسیتھ نے کہا تھا کہ ’یہ ایک من گھڑت کہانی ہے جسے میڈیا فروغ دینا چاہتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ذخائر بہترین حالت میں ہیں اور مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔‘

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے