جھگیوں کی رہائشی دو خواتین کی لاہور کے تھانے میں ہلاکت پر مریم نواز حکومت خاموش
لاہور کے ٹاؤن شپ تھانے میں دو خواتین کی ہلاکت کے معاملے پر وزیراعلٰی مریم نواز کی پنجاب حکومت نے مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے-
پُراسرا اور مشکوک حالات میں پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے تھانے میں مرنے والی خواتین کا پوسٹمارٹم بھی مبینہ طور پر دو دن بعد کرایا گیا تھا جبکہ اُن کی آبائی علاقے پاکپتن میں تدفین کے وقت پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی کی ویڈیوز سامنے آئی ہیں-
دونوں خواتین کو چند دن قبل مبینہ چوری اور دھوکہ دہی کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا جہاں وہ پولیس کے تفتیشی افسر کے ساتھ گفتگو کر رہی ہیں جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آئی- اس کے بعد خبر دی گئی کہ اُن کی موت واقع ہو گئی ہے-
لاہور سے صحافی محمد عمیر کے مطابق ورثاء کا کہنا ہے کہ دونوں لڑکیوں کا آپس میں نند اور بھابھی کا رشتہ تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس نے پاکپتن کے نواحی علاقے میں زبردستی جنازہ کروایا اور لڑکیوں کی فوری تدفین کروائی-
صحافی محمد عمیر کے مطابق لاہور سے پاکپتن نعشوں کے ساتھ پولیس اہلکار گئے اور جنازے، تدفین کے موقع پر پولیس کی بھاری نفری موجود رہی جبکہ ایلیٹ فورس کے اہلکار بھی گاڑی میں موجود تھے۔
جھگیوں میں رہائش پذیر ورثاء نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ ان کو ابتدائی طور ایک اور ایف آئی آر دی گئی اور بتایا گیا کہ وہ دونوں لڑکیوں کی ضمانت کروائیں جبکہ بعد میں دوسری ایف آئی آر کا بتایا گیا اور پتہ چلا کہ دونوں کی موت ہوچکی ہے۔
دونوں لڑکیاں پاکپتن میں اوڈھ فیملی سے تھیں جو جھگیوں میں رہتے ہیں۔

