سپانتک پر موسم سازگار، 6400 میٹر بلندی سے اسما مشتاق کی میت اُتارنے کے لیے ٹیم روانہ
پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ کوہ پیما ڈاکٹر اسما مشتاق کی میت کو قراقرم کے پہاڑی سلسلے میں واقع سات ہزار میٹر بلند چوٹی سپانتک سے نیچے اُتارنے کے لیے منگل کی صبح ایک ریسکیو ٹیم روانہ کی جا چکی ہے-
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ’ریسکیو ٹیم ایک بار پھر بیس کیمپ سے روانہ ہو چکی ہے اور اب کیمپ ٹو کی جانب پیش قدمی کر رہی ہے۔ ٹیم انتہائی احتیاط کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے اور موسمی حالات سازگار رہنے تک تلاش کا آپریشن جاری رکھے گی۔‘
قراقرم کالنگ ٹریکس کمپنی نے چار دن قبل ایک بیان میں کہا تھا کہ ڈاکٹر اسما مشتاق کی موت 20 اگست کو سپانتک کی چوٹی سر کرنے کے بعد واپسی کے دوران تقریباً 6,400 میٹر کی بلندی پر ’ہائی ایلٹیٹیوڈ میڈیکل ایمرجنسی‘ کے باعث ہوئی تھی۔
اس معاملے نے اُس وقت سوشل میڈیا پر بحث کو جنم دیا جب بعض صارفین نے دعویٰ کیا کہ میت کو چوٹی سے نیچے اُتارنے کے لیے 30 لاکھ روپے معاوضہ مانگا جا رہا ہے-
پاکستان 24 نے اُس وقت ماہر کوہ پیماؤں سے اس معاملے پر بات کی تھی، اُس کی تفصیل یہاں دوبارہ پیش کی جا رہی ہے-
پاکستان آرمی ایکسپیڈیشن کا حصہ رہنے والے پرائڈ آف پرفارمنس کوہ پیما کرنل ریٹائرڈ عبدالجبار بھٹی نے پاکستان 24 سے گفتگو میں کہا کہ بلند پہاڑوں پر جانے کے لیے دنیا میں دو کمپنیاں انشورنس دیتی ہیں اور اُن کو ادائیگی ڈالر میں کی جاتی ہے جبکہ بدقسمتی سے پاکستان میں ابھی تک اس شعبے میں کوئی کمپنی انشورنس نہیں کرتی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہونا تو یہ چاہیے کہ کوہ پیمائی پر جانے والے ہر شخص کی انشورنس ہو، مگر پاکستان میں کوئی نہیں کرتا۔ عسکری ایوی ایشن کو کمپنیاں پیشگی ادائیگی کرتی ہیں کہ اگر ایسی کوئی صورتحال درپیش ہو جائے تو ریسکیو کیا جا سکے، مگر اس کے لیے بھی پہلے کمپنی کو اپنے کلائنٹس کی انشورنس کرانا ہوتی ہے۔
عبدالجبار بھٹی نے کہا کہ پاکستان میں ہم لوگ بچت کر لیتے ہیں اور انشورنس نہیں کراتے۔ اور پھر کوئی بھی حادثہ پیش آنے پر شور مچاتے ہیں کہ سرکار کچھ کرے، جبکہ سرکار نے تو آپ کو وہاں نہیں بھیجا تھا۔
تجربہ کار کوہ پیما نے مزید کہا کہ یہ ایڈونچر سپورٹس ہے اور یہ سب اس کا حصہ ہے۔ تاہم اگر کمپنی کے ساتھ کلائنٹ نے بیس کیمپ ٹو بیس کیمپ معاہدہ کر رکھا ہے تو پھر کمپنی کی ذمہ داری ہے کہ واپس لے کر آئے۔
انہوں نے اسما مشتاق کیس کے حوالے سے کہا کہ اس میں کمپنی نے اُن کے ساتھ دو افراد بھیجے یعنی پورٹر اور گائیڈ، اس کا مطلب ہے کہ اچھی خاصی ادائیگی کی گئی ہوگی۔
کرنل ریٹائرڈ عبدالجبار بھٹی نے کہا کہ نیپال میں ایورسٹ اور دیگر چوٹیوں پر جانے والوں کے لیے وہاں کی حکومت اور کمپنیوں نے انتظامات کیے ہوتے ہیں، ریسکیو سروس سے معاہدے ہوتے ہیں، اور ہیلی سروس فراہم کی جاتی ہے مگر پاکستان میں ہم ابھی تک ایسا کوئی نظام نہیں بنا سکے۔
سینیئر کوہ پیما نے اپنی پہلی ایکسپیڈیشن سنہ 1985 میں براڈ پیک پر جاپانی کوہ پیماوں کے ساتھ کی تھی جبکہ آخری ایکسپیڈیشن سنہ 2023 میں نانگا پربت کی تھی۔
الپائن کلب کے مطابق اس سے قبل یہ اطلاع ملی تھی کہ چوٹی سر کرنے کے بعد ڈاکٹر اسماء ‘ہائی الٹیٹیوڈ سکنس’ (بلندی کی وجہ سے ہونے والی بیماری) کا شکار ہو گئی تھیں۔ ان کی موت کے حالات، نیز ایکسپیڈیشن کمپنی کے رویے اور ردعمل کی مکمل تحقیقات اس وقت کی جائیں گی جب ٹیمیں بحفاظت نیچے آ جائیں گی اور ان کی میت منتقل کر لی جائے گی۔
ایاز شگری کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس تحقیقات کے نتائج کی روشنی میں کوئی بھی ضروری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ یہاں ‘الپائن کلب آف پاکستان’ کے کردار کی وضاحت کرنا بھی ضروری ہے۔ الپائن کلب کوہ پیمائی اور سپورٹ کلائمبنگ کے لیے پاکستان کی قومی فیڈریشن ہے۔ یہ کوئی ایسی ریسکیو تنظیم نہیں ہے جس کے پاس مخصوص وسائل موجود ہوں۔
کلب کے سیکریٹری جنرل کے مطابق تلاش، بچاؤ اور دیگر متعلقہ سرگرمیاں حکومتی وسائل پر منحصر ہوتی ہیں۔ پاکستان میں فی الحال بلندی پر ریسکیو کرنے والا کوئی مخصوص اور باقاعدہ نظام موجود نہیں ہے۔ ہم متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر ایک مؤثر ریسکیو فریم ورک کی تشکیل اور کلب کی نئی قیادت کے تحت ملک کے کوہ پیمائی کے بنیادی ڈھانچے میں بہتری لانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر اس حوالے سے گزشتہ دو دنوں سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر اسما مشتاق کی میت پہاڑ سے نیچے لانے کے لیے اُن کے خاندان سے 30 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا گیا۔
اس بارے میں جب پاکستان24 نے کوہ پیما آصف بھٹی سے پوچھا تو اُن کا کہنا تھا کہ ہزاروں میٹر بلند پہاڑوں سے زخمی ہونے والے کوہ پیماوں کو تو مدد کر کے واپس لایا جا سکتا ہے مگر اتنی بلندی پر موجود کسی بھی میت کو نیچے لانے کے لیے ریکوری مشن پر اخراجات آتے ہیں اور یہ کوئی انہونی بات نہیں۔
عالمی شہرت یافتہ کوہ پیما ساجد سدپارہ نے فیس بُک پیج سکردو ٹی وی کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ دنیا بھر میں ہزاروں میٹر اونچے پہاڑوں پر حادثات ہوتے ہیں اور ابھی حال ہی براڈ پیک پر مارے جانے والے 10 کوہ پیماوں کی لاشوں کی تلاش اور میتوں کو نیچے لانے پر اخراجات آئے تھے اور اس کی ادائیگی اُن کی گلوبل انشورنس نے کی تھی۔
ساجد سدپارہ کا کہنا تھا کہ جب وہ کے ٹو سے اپنے والد کی میت نیچے لانے کے مشن پر گئے تھے تو اپنے ساتھ تین پورٹر لے گئے تھے جن کو معاوضہ دیا گیا تھا۔
ساجد سدپارہ کے مطابق اتنی بلندی پر سامان لے کر جانا، دو تین دن گزارنا بغیر خرچ کے ممکن ہی نہیں، اور اس کے علاوہ کوہ پیمائی کے آلات بھی درکار ہوتے ہیں جبکہ میت کو نیچے لانا ایک انتہائی مشکل کام ہے۔

