پہلے برطانوی حکومت نے روکا، اب پاکستان جانے کے لیے سکیورٹی خدشات کی پرواہ نہیں: قاسم و سلیمان
پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کے برطانیہ میں مقیم بیٹوں قاسم اور سلیمان نے کہا ہے کہ اُن کے والد کو ’ تنہا کیا جا رہا ہے اور ذہنی طور پر توڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘
انہوں نے ایک ٹی وی انٹرویو میں پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے والد کا کسی ’غیرجانبدار ڈاکٹر یا ان کے اپنے ڈاکٹر سے‘ طبی معائنہ کروایا جائے اور اس کا نتائج کو منظر عام پر لایا جائے۔
عمران خان کے بیٹے سلیمان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستانی حکومت کے دعوے کے مطابق ان کے والد عمران خان کی صحت درست ہے تو ’انھیں ہمیں ثبوت دکھانا چاہیے۔‘
بی بی سی نیوز کو انٹرویو میں عمران خان کے بیٹے سلیمان نے دعویٰ کیا کہ ’سچ یہ ہے کہ گذشتہ تین برسوں کے دوران صورتحال بتدریج خراب ہوتی گئی ہے اور اب یہ اس مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں ان (عمران خان) کی صحت تشویش ناک حد تک نازک ہو گئی ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ ان کا علاج ایک غیر جانبدار نیوٹرل ہسپتال میں کیا جائے، لیکن انہیں اس کے بجائے انہیں ایک سرکاری ادارے میں لے جایا گیا۔‘
انھوں نے ایک سوال کے جواب میں پاکستانی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ کیا چھپا رہے ہیں؟ ان (عمران خان) کا معائنہ کسی غیر جانبدار یا ان کے اپنے ڈاکٹر سے کروایا جانا چاہیے اور انھیں ہمیں اس کے نتائج بھی دکھانے چاہییں۔‘
عمران خان کے بیٹے قاسم نے بی بی سی نیوز کو انٹرویو میں بتایا کہ ’کیئر سٹارمر اور ڈیوڈ لیمی کی سابق حکومت نے ہمیں یہ تک مشورہ دیا تھا کہ ہم اپنے والد سے ملنے کے لیے بھی نہ جائیں۔ اس وقت ہمیں اپنے والد سے ملے ہوئے دو سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا تھا۔‘
’ہمیں اب سکیورٹی سے متعلق خدشات کی بھی پروا نہیں۔ ہم صرف ان (عمران خان) سے ملنا چاہتے ہیں اور یہ اطمینان کرنا چاہتے ہیں کہ وہ کسی حد تک خیریت سے ہیں۔‘
قاسم نے مزید کہا کہ وہ عمران خان کی صحت کے بارے میں اختیار کی جانے والی ’رازداری‘ پر بہت زیادہ تشویش رکھتے ہیں۔
’ہمیں امید ہے کہ نئے سیکریٹری خارجہ شاید ہمیں کسی قسم کا اطمینان دلوا سکیں کہ اگر ہم وہاں (پاکستان) جائیں تو ہمیں کسی نہ کسی نوعیت کی معاونت حاصل ہوگی۔‘
خیال رہے 18 اگست کو پاکستان کی سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ سابق وزیرِ اعظم کو علاج کے لیے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے، لیکن حکومت نے اُنھیں پمز لانے کی یہ دلیل پیش کی کہ پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے شفا ہسپتال کے راستے اور باہر پیدا کی گئی سکیورٹی صورتحال کی وجہ سے اُنھیں شفا ہسپتال نہیں لے جایا جا سکتا تھا۔
حکومت نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ پمز میں طبی معائنے کے بعد وہ صحت مند پائے گئے تھے۔ تاہم پاکستان تحریکِ انصاف نے اسے عدالتی حکم کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے توہینِ عدالت کی درخواست دائر کر دی تھی۔ خیال رہے کہ حکومت نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی درخواست کی تھی۔