ایران اور عمان کا آبنائے ہرمز میں عارضی بحری راہداری کھولنے پر اتفاق
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی نے کہا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کے ذریعے جہازوں کی آمد و رفت کے لیے ایک عارضی راہداری کھولنے پر اتفاق ہو گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک نئی گزرگاہ ہے جو آبنائے ہرمز کے وسط میں واقع ہے۔
شام کے المنار ٹی وی کو ایک انٹرویو میں آبنائے ہرمز کے حوالے سے محسن رضائی نے کہا کہ اس راہداری کا ایک حصہ ایرانی پانیوں میں اور دوسرا عمانی پانیوں میں واقع ہے، جبکہ دونوں ممالک مشترکہ طور پر جہازوں کی آمد و رفت کا انتظام کریں گے۔
ان کے مطابق اس منصوبے کی تفصیلات طے کر لی گئی ہیں اور راہداری کا مقام واضح طور پر متعین کر دیا گیا ہے۔
محسن رضائی کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ ایران کی شرائط پر عمل کرتا ہے اور تو آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے گی اور جہاز اسی نئے راستے سے گزر سکیں گے۔ ’یہ ایک نئی گزرگاہ ہے جو آبنائے ہرمز کے وسط میں واقع ہے۔‘
انھوں نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے کو واشنگٹن کی جانب سے ایرانی شرائط پر عمل درآمد سے مشروط قرار دیا۔ ان شرائط میں سرفہرست مغربی ایشیا میں جاری جنگوں، خصوصاً لبنان اور غزہ کے تنازعات، کے خاتمے کے لیے کوششیں شامل ہیں۔
محسن رضائی کا کہنا تھا کہ ایران نے اپنی شرائط کی ایک فہرست تیار کی ہے جو امریکہ کے سامنے پیش کی جائے گی۔
ان کے مطابق فی الحال ایران نے آبنائے ہرمز کے وسط سے جہازوں کی محدود اور عارضی آمد و رفت کی اجازت دی ہے، جبکہ مستقبل میں بحری نقل و حمل کی صورتحال کا انحصار واشنگٹن کے ساتھ ہونے والی مفاہمت میں پیش رفت پر ہوگا۔