Deprecated: Using null as an array offset is deprecated, use an empty string instead in /var/www/wptbox/wp-content/plugins/brizy/editor/project.php on line 128

Deprecated: Using null as an array offset is deprecated, use an empty string instead in /var/www/wptbox/wp-content/plugins/brizy/editor/project.php on line 118

Deprecated: Using null as an array offset is deprecated, use an empty string instead in /var/www/wptbox/wp-content/plugins/brizy/editor/project.php on line 119

Deprecated: Using null as an array offset is deprecated, use an empty string instead in /var/www/wptbox/wp-content/plugins/brizy/editor/project.php on line 118

Deprecated: Using null as an array offset is deprecated, use an empty string instead in /var/www/wptbox/wp-content/plugins/brizy/editor/project.php on line 119

Deprecated: Using null as an array offset is deprecated, use an empty string instead in /var/www/wptbox/wp-content/plugins/brizy/editor/project.php on line 118

Deprecated: Using null as an array offset is deprecated, use an empty string instead in /var/www/wptbox/wp-content/plugins/brizy/editor/project.php on line 119
خودمختار ریاست کی حیثیت سے پاکستان سے اچھے تعلقات کے لیے تیار ہیں، اسلام آباد میں‌ افغان سفیر کا فوجی یونیورسٹی میں‌ خطاب
Deprecated: Using null as an array offset is deprecated, use an empty string instead in /var/www/wptbox/wp-content/plugins/brizy/editor/project.php on line 118

Deprecated: Using null as an array offset is deprecated, use an empty string instead in /var/www/wptbox/wp-content/plugins/brizy/editor/project.php on line 119
اہم

خودمختار ریاست کی حیثیت سے پاکستان سے اچھے تعلقات کے لیے تیار ہیں، اسلام آباد میں‌ افغان سفیر کا فوجی یونیورسٹی میں‌ خطاب

ستمبر 2, 2026

خودمختار ریاست کی حیثیت سے پاکستان سے اچھے تعلقات کے لیے تیار ہیں، اسلام آباد میں‌ افغان سفیر کا فوجی یونیورسٹی میں‌ خطاب

اسلام آباد میں‌ تعینات افغان سفیر احمد شکیب نے کہا ہے کہ افغانستان اور پاکستان محض دو پڑوسی ممالک نہیں، ہمارے جغرافیے آپس میں جڑے ہوئے ہیں، ہمارے عوام اور معاشروں کے درمیان گہرے تعلقات ہیں، اور ہماری تاریخیں کئی لحاظ سے باہم پیوست ہیں۔

فوج کے زیرِ انتظام یونیورسٹی این ڈی یو میں‌ خطاب کرتے ہوئے افغانستان کے سفیر کا کہنا تھا کہ تجارت، ٹرانزٹ اور لوگوں کی آمدورفت ہماری معیشتوں اور معاشروں کو آپس میں جوڑتی ہے۔ ساتھ ہی گزشتہ کئی دہائیوں کی جنگوں اور سکیورٹی کے حالات نے ایسی صورتحال پیدا کر دی ہے جس میں دونوں ممالک کے سکیورٹی سے متعلق معاملات اور خدشات بھی گہری حد تک باہم جڑے ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں سیاسی، سکیورٹی اور معاشی مسائل پاکستان پر اثر انداز ہوتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے پاکستان میں ہونے والی پیش رفت افغانستان پر اثر ڈالتی ہے۔ یہ ایک ایسی جغرافیائی اور تزویراتی (اسٹریٹجک) حقیقت ہے جسے کوئی بھی ملک تبدیل نہیں کر سکتا۔ لیکن ہمارے پاس ایک انتخاب موجود ہے: آیا ہم اس باہمی انحصار کو بحران کا ذریعہ سمجھیں، یا اسے استحکام، سلامتی اور مشترکہ معاشی مفادات کے حصول کے لیے ایک موقع کے طور پر استعمال کریں۔

افغان سفیر نے کہا کہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کی موجودہ زمینی حقائق کے بارے میں فرسودہ تصورات سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ آج کے افغانستان کا جائزہ گزشتہ کئی دہائیوں کے تناظر میں نہیں لیا جانا چاہیے۔ یہ افغانستان ‘سرد جنگ’ (Cold War) والا افغانستان نہیں ہے۔ نہ ہی یہ 90 کی دہائی کا افغانستان ہے، اور نہ ہی یہ وہ افغانستان ہے جو 2001 کے بعد غیرملکی فوجی موجودگی اور غیرملکی سیاسی مداخلت کے براہِ راست اثر کے تحت قائم تھا۔ 2021 کے بعد، کابل میں ایک نئی سیاسی حقیقت ابھر کر سامنے آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو افغان سرزمین سے پیدا ہونے والے ممکنہ سکیورٹی خطرات کے حوالے سے خدشات لاحق ہیں اور افغانستان ان خدشات کو بخوبی سمجھتا ہے۔ تاہم افغانستان اس بات پر بھی اتنا ہی زور دیتا ہے کہ سکیورٹی سے متعلق الزامات مخصوص، واضح اور ٹھوس معلومات، شناخت کے قابل افراد، مخصوص نیٹ ورکس اور خاص واقعات سے منسلک ہونے چاہییں۔

سفیر کا کہنا تھا کہ افغانستان نہیں چاہتا کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو۔ ساتھ ہی افغانستان اس بات کو تسلیم نہیں کر سکتا کہ پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو افغان سرزمین پر فوجی کارروائی کا جواز بنایا جائے۔ اگر مخصوص خدشات کے حوالے سے افغانستان سے تعاون کی توقع کی جاتی ہے، تو اسی طرح افغانستان بھی اپنے سکیورٹی خدشات کے سلسلے میں پاکستان کے ساتھ براہِ راست بات چیت کرنے کا خواہشمند ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اپنے قومی مفادات ہیں اور افغانستان کے اپنے، اور پڑوسی ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ایک ریاست دوسری ریاست کے تمام سٹریٹجک فیصلوں کی تائید کرے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں ریاستیں آزادانہ فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں اور ساتھ ہی ایک دوسرے کے جائز سیکیورٹی اور قومی خدشات کو بھی پیشِ نظر رکھیں۔

سفیر کے مطابق افغانستان کے کسی ایک ملک کے ساتھ تعلقات کی تشریح کسی دوسرے ملک کے خلاف موقف کے طور پر نہیں کی جانی چاہیے۔ ایک خودمختار ریاست کئی ممالک کے ساتھ تعلقات استوار رکھ سکتی ہے، یہاں تک کہ ان ممالک کے ساتھ بھی جن کے آپس میں تعلقات اچھے نہیں ہیں، اور اس عمل کو کسی دوسرے ملک کے خلاف دشمنی کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

احمد شکیب کا کہنا تھا کہ آج خطے میں بحران، پاکستان کی جانب سے راستوں کی بندش اور لاکھوں افراد کی واپسی کے باوجود، افغانستان نے ترقی اور پیش قدمی کا سفر جاری رکھا ہے۔ خطے میں اس کی سیاسی اور اقتصادی شراکت داری میں وسعت آئی ہے، اعتماد میں اضافہ ہوا ہے، اور بیس سالہ قبضے کے دوران بیرونی انحصار پر مبنی معیشت کے برعکس، افغانستان نے اب ایک حقیقی اور پائیدار قومی معیشت کی بنیادیں استوار اور مضبوط کر لی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان یہ نہیں چاہتا کہ اسے اپنی خودمختاری اور داخلی معاملات کے حوالے سے بیرونی دباؤ کا سامنا کرنا پڑے، سفارتی رابطوں اور بات چیت کی جگہ فوجی کارروائی لے لے، سکیورٹی مسائل کے حل کے لیے افغان شہریوں کو اجتماعی سزا دی جائے اور تجارت و ٹرانزٹ کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جائے۔

سفیر کا کہنا تھا کہ افغانستان اپنا جغرافیہ تبدیل نہیں کر سکتا اور نہ ہی پاکستان اپنا جغرافیہ بدل سکتا ہے، ہم پڑوسی ہی رہیں گے، لہٰذا اصل سوال یہ نہیں ہے کہ آیا ہمارے آپس میں تعلقات ہوں گے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم اچھے پڑوسی کیسے رہیں گے؟ افغانستان اس انتخاب کے لیے تیار ہے۔ کمزوری کی پوزیشن سے نہیں، انحصار کی پوزیشن سے نہیں، اور نہ ہی تصادم کی پوزیشن سے؛ بلکہ ایک ایسی خودمختار ریاست کی حیثیت سے جو اپنی تاریخ سے واقف ہے، اپنے جغرافیے کو سمجھتی ہے، اپنے ماضی کے تجربات سے سیکھتی ہے، اور اپنے مستقبل کی تعمیر اپنے عوام کی مرضی اور قومی مفادات کی بنیاد پر کرنا چاہتی ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے