Deprecated: Using null as an array offset is deprecated, use an empty string instead in /var/www/wptbox/wp-content/plugins/brizy/editor/project.php on line 128

Deprecated: Using null as an array offset is deprecated, use an empty string instead in /var/www/wptbox/wp-content/plugins/brizy/editor/project.php on line 118

Deprecated: Using null as an array offset is deprecated, use an empty string instead in /var/www/wptbox/wp-content/plugins/brizy/editor/project.php on line 119

Deprecated: Using null as an array offset is deprecated, use an empty string instead in /var/www/wptbox/wp-content/plugins/brizy/editor/project.php on line 118

Deprecated: Using null as an array offset is deprecated, use an empty string instead in /var/www/wptbox/wp-content/plugins/brizy/editor/project.php on line 119

Deprecated: Using null as an array offset is deprecated, use an empty string instead in /var/www/wptbox/wp-content/plugins/brizy/editor/project.php on line 118

Deprecated: Using null as an array offset is deprecated, use an empty string instead in /var/www/wptbox/wp-content/plugins/brizy/editor/project.php on line 119
اسلام آباد کے راول ڈیم کو آلودگی سے بچانے کا فیصلہ چار سال بعد کالعدم، نیول فارمز بحال
Deprecated: Using null as an array offset is deprecated, use an empty string instead in /var/www/wptbox/wp-content/plugins/brizy/editor/project.php on line 118

Deprecated: Using null as an array offset is deprecated, use an empty string instead in /var/www/wptbox/wp-content/plugins/brizy/editor/project.php on line 119
اہم

اسلام آباد کے راول ڈیم کو آلودگی سے بچانے کا فیصلہ چار سال بعد کالعدم، نیول فارمز بحال

ستمبر 3, 2026

اسلام آباد کے راول ڈیم کو آلودگی سے بچانے کا فیصلہ چار سال بعد کالعدم، نیول فارمز بحال

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان کے دارالحکومت میں شہر کو پانی فراہم کرنے والے راول ڈیم کے کنارے بحریہ کے تعمیر کردہ نیول سیلنگ کلب کی عمارت مسمار کرنے، نیول فارمز کو غیر قانونی قرار دینے اور نیوی کے سابق چیف ظفر محمود عباسی کے خلاف مس کنڈکٹ اور فوجداری کارروائی شروع کرنے کا عدالتی فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس انعام امین منہاس اور جسٹس شاہ رخ ارجمند پر مشتمل دو رُکنی بینچ نے وزارتِ دفاع اور نیوی کے سابق چیف ظفر محمود عباسی کی دائر انٹرا کورٹ اپیلیں منظور کر کے سابق چیف جسٹس اطہر من اللہ کے سنگل بینچ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا۔

جنوری 2022 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیوی سیلنگ کلب کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے عمارت تین ہفتوں میں گرانے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے سابق نیول چیف کے خلاف مس کنڈکٹ اور فوجداری کارروائی شروع کرنے کا بھی حکم دیا تھا۔

سنگل بینچ نے نیول فارمز کے لیے جاری این او سی کو بھی غیر قانونی قرار دیتے ہوئے سیکرٹری کابینہ ڈویژن کو ہدایت کی تھی کہ عدالتی فیصلے کی کاپی وزیرِ اعظم اور وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کی جائے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے 45 صفحات پر مشتمل فیصلے میں قرار دیا تھا کہ پاکستان نیوی یا کسی بھی ریاستی ادارے کا نام ریئل سٹیٹ کاروبار کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

فیصلے میں کہا گیا تھا کہ پاکستان نیوی ہیڈکوارٹر کے نام پر زمین کی منتقلی غیر آئینی اور غیر قانونی ہے، جبکہ سابق نیول چیف ایڈمرل ظفر محمود عباسی نے غیر قانونی عمارت کا افتتاح کر کے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی۔

عدالت نے نیول فارمز کی تعمیر کے لیے جاری کیے گئے اجازت نامے کو بھی غیرقانونی قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ وفاقی ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے) کو اس سے متعلق این او سی جاری کرنے کا اختیار نہیں تھا۔

جسٹس اطہر من اللہ کے فیصلے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ سابق نیول چیف ایڈمرل ظفر محمود عباسی نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تجاوزات والی زمین پر غیرقانونی عمارت (نیوی سیلنگ کلب) کا افتتاح کر کے اپنے آئینی فرض سے تجاوز کیا اور اُن کی جانب سے ’یہ (افتتاح) اس کے باوجود کیا گیا کہ سی ڈی اے اور سمال ڈیمز آرگنائزیشن کی جانب سے اس حوالے سے نوٹسز بھی جاری کیے جا چکے تھے۔‘

ڈویژن بینچ نے اپیلوں میں‌ عدالت کے آڈیٹر جنرل کو قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ لگانے اور ملوث افسران سے رقم وصول کرنے سے متعلق احکامات بھی کالعدم قرار دے دیے۔ اسی طرح پاکستان نیوی ہیڈکوارٹر کے نام زمین کی منتقلی کو غیر قانونی قرار دینے والا فیصلہ بھی ختم کر دیا گیا۔

عدالت نے نیول فارمز کی پاکستان نیوی کو منتقلی کو غیر قانونی قرار دینے والا فیصلہ بھی کالعدم قرار دیا ہے، جبکہ زمین کو ہیڈکوارٹرز آفس کے نام منتقل کرنے کی ہدایت بھی منسوخ کر دی گئی۔

جسٹس اطہر من اللہ کے ابتدائی فیصلے کے خلاف یہ اپیلیں وزارت دفاع، سابق نیول چیف ایڈمرل (ریٹائرڈ) عباسی اور دیگر متاثرہ فریقین کی جانب سے فائل کی گئی تھیں۔

فیصلے کے خلاف اپیل کنندگان کی جانب سے اشتر اوصاف، سردار احمد جمال اور عبد الواحد قریشی عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ وفاق کی نمائندگی ایڈیشنل اٹارنی جنرل، اسسٹنٹ اٹارنی جنرل اور سی ڈی اے کے وکیل نے کی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے