اہم خبریں

اسلام آباد میں کالم نگار، ولاگر بلال غوری ‘لاپتہ’، سائبر کرائم کے مقدمے میں‌ ملزم نامزد

ستمبر 6, 2026

اسلام آباد میں کالم نگار، ولاگر بلال غوری ‘لاپتہ’، سائبر کرائم کے مقدمے میں‌ ملزم نامزد

اسلام آباد میں مقیم کالم نگار اور ولاگر محمد بلال غوری کی پراسرار حالات میں گھر سے لاپتہ ہونے کی اطلاعات کے بعد نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے اُن کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیے جانے کی تصدیق کی گئی ہے۔

بلال غوری کی اہلیہ حمیرہ کنول نے اتوار کی صبح سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک پر اپنے شوہر کے اکاؤنٹ سے بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ وہ 6 ستمبر کی رات تقریباً دو بجے سے گھر سے لاپتہ ہیں۔

حمیرا کنول کے مطابق ’ان کا پرس اور نظر کا چشمہ گھر پر ہی موجود ہیں جبکہ کمرے کے پنکھے اور لائٹس بھی آن تھیں۔ وہ صرف اپنا موبائل فون ساتھ لے گئے ہیں جو مسلسل بند ہے۔‘
انہوں نے حکام اور عوام سے اپیل کی کہ ان کے شوہر کی جلد اور محفوظ واپسی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

ادھر اسلام آباد میں این سی سی آئی اے کے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر میں بلال غوری کے خلاف پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) 2016 (ترمیم شدہ 2025) کی دفعات 20 اور 26 اے کے تحت مقدمہ (ایف آئی آر نمبر 143/2026) درج کر لیا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق یہ مقدمہ این سی سی آئی اے کے تکنیکی معاون محمد عمیر وارثی کی مدعیت میں درج کیا گیا۔

مقدمے کے مطابق ایجنسی کی انکوائری کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ بلال غوری نے 5 ستمبر کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بشمول ایکس اور یوٹیوب پر ایسا مواد اپ لوڈ کیا جس میں نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کے نیشنل کوآرڈینیٹر کی تعیناتی سے متعلق امور کو موضوع بنایا گیا تھا۔

بلال غوری نے اپنے یوٹیوب چینل پر ایک ولاگ نشر کیا تھا جس میں ڈی جی سی (ڈائریکٹر جنرل کاؤنٹر انٹیلی جنس) میجر جنرل فیصل نصیر کی نیکٹا میں بطور نیشنل کوآرڈینیٹر تعیناتی کے عمل اور حالات سے متعلق تبصرے کیے گئے تھے۔

ایف آئی آر میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ مذکورہ مواد کے ذریعے مبینہ طور پر جھوٹا اور گمراہ کن بیانیہ تشکیل دے کر ریاستی اداروں اور عوامی عہدیداروں کے بارے میں عوامی اعتماد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی جو پیکا ایکٹ کے تحت قابلِ دست اندازیِ پولیس جرم ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے