تجارتی پابندیوں کا جواب، اسرائیل نے برطانوی قونصل خانہ بند کر دیا
اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ مشرقی یروشلم میں برطانیہ کا قونصل خانہ بند کر رہا ہے۔
یہ اقدام برطانیہ، فرانس اور کینیڈا کی جانب سے مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی بستیوں سے درآمدات روکنے کے منصوبوں کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔
اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون سار نے کہا کہ برطانیہ اب غزہ کے لیے امریکہ کی قیادت میں چلنے والے رابطہ مشن میں بھی حصہ نہیں لے گا، اور لیبر پارٹی کے سابق رہنما جیریمی کوربن سمیت کچھ برطانوی حکام اور دیگر افراد کے اسرائیل میں داخلے پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ برطانیہ کا یہ اقدام اخلاقی طور پر مسخ شدہ ہے اور یہ ایک خودمختار ریاست کے معاملات اور اس کے انتخابی عمل میں کھلی مداخلت کے مترادف ہے۔
گیڈون سار نے اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کی ‘نسل کشی’ کے بارے میں برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ کے تبصروں کو ‘سفاکانہ جھوٹ’ قرار دیا۔
مشرقی یروشلم میں قائم برطانوی قونصل خانہ، مغربی کنارے میں موجود فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ سفارتی تعلقات کا ذمہ دار ہے۔
گیڈون سار نے کہا کہ انہوں نے اسرائیل کے ردعمل کے معاملے پر وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے مشاورت کی ہے۔ انہوں نے برطانیہ پر اسرائیل کے آئندہ انتخابات (جو اکتوبر کے آخر میں متوقع ہیں) میں مداخلت کا الزام بھی عائد کیا۔
تجارتی اقدامات
منگل کے روز برطانیہ، فرانس اور کینیڈا کی جانب سے تجویز کردہ تجارتی اقدامات، اسرائیل کی فلسطین کے علاقے مغربی کنارے میں بستیوں کی تعمیر کی پالیسی کو ہدف بنانے والے اقدامات کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہیں؛ یہ اقدامات اس کے کچھ روایتی اتحادیوں میں اسرائیل کی بڑھتی ہوئی سفارتی تنہائی کو بھی نمایاں کرتے ہیں۔

