اہم

’قانون و انصاف کے نظام کا مذاق‘، پشاور میں‌ چار ملزمان ’مقابلے‘ میں‌ ہلاک

ستمبر 11, 2026

’قانون و انصاف کے نظام کا مذاق‘، پشاور میں‌ چار ملزمان ’مقابلے‘ میں‌ ہلاک

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے نواحی علاقے رحمان بابا میں مبینہ پولیس مقابلے میں گینگ ریپ کیس کے 4 زیرِ حراست ملزمان ہلاک ہو گئے ہیں۔

پشاور کی کیپٹل سٹی پولیس نے ایک بیان میں‌ دعویٰ کیا ہے کہ زیرِحراست ملزمان کو واردات کے مقام کی نشاندہی کے لیے لے جایا جا رہا تھا۔راستے میں نامعلوم مسلح افراد نے پولیس پارٹی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ کا نشانہ بن کر ہلاک ہوئے، جبکہ پولیس اہلکار اس حملے میں محفوظ رہے۔

ملزمان کا پس منظر اور شناخت:
ہلاک ہونے والے ملزمان کی شناخت عامر، جلال عرف راجہ، چچے اور امداس کے ناموں سے ہوئی ہے۔
یہ ملزمان 6 ستمبر 2026 کو پشاور کے علاقے گڑھی موسم خان میں ایک گھر کی دیوار پھلانگ کر خواتین اور بچی سے گینگ ریپ اور ڈکیتی کی سنگین واردات میں گرفتار ہوئے تھے۔

بیان کے مطابق پولیس کی جانب سے نامعلوم حملہ آوروں کی تلاش اور واقعے کی مزید تفتیش کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔

ملزمان کی گرفتاری کے بعد گزشتہ روز پشاور پولیس کے سربراہ نے ایک پریس کانفرنس بھی کی تھی اور کہا تھا کہ یہ سنگین ترین جرم تھا جو علاقے میں ہوا، اور دعویٰ کیا کہ پشاور اور نواح میں اس سے قبل اس طرح کے جرائم نہیں‌ ہوئے-

پولیس نے گزشتہ ہفتے بھی بحرین سے انٹرپول کے ذریعے لائے گئے ایک ملزم کے مقابلے میں‌ ہلاک ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ ساتھیوں‌کی فائرنگ سے مارے گئے-

پاکستان کے صوبے پنجاب میں‌ گزشتہ دو برس سے اس طرح کے مقابلوں‌ میں‌ پولیس ایک جیسے بیانات جاری کرتی ہے اور سینکڑوں زیرِحراست ملزمان ہلاک کیے جا چکے ہیں-
پنجاب کے بعد پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں بھی چند ایسے مقابلوں‌ میں‌ زیرِحراست ملزمان مارے گئے جن کے بارے میں کہا گیا کہ ساتھیوں‌کی فائرنگ کا نشانہ بنے-

پولیس مقابلوں‌کے اس رجحان پر خیبر پختونخوا کے چند وکلا نے سوشل میڈیا پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کو ماورائے عدالت قتل قرار دیا ہے-

پشاور سے تعلق رکھنے والے وکیل عماد خلیل نے اس واقعے کے بعد لکھا کہ پشاور پولیس خود ہی جج، جیوری اور جلاد کا کردار ادا کر رہی ہے۔

انہوں نے فیس بک پر پوسٹ کیا کہ اطلاعات کے مطابق 4 ملزمان رات کی تاریکی میں ایک گھر میں غیر قانونی طور پر داخل ہوئے، گھر کا سارا سامان لوٹا، پھر شوہر اور بچوں کو ایک کمرے میں بند کر کے بندوق کے زور پر اس کی دو بیویوں کے ساتھ زیادتی کی۔

متاثرین مقامی تھانے پہنچے، جہاں انہوں نے پولیس کو اس گھناؤنے جرم سے آگاہ کیا۔ پولیس کے مطابق انہوں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے چاروں ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
گرفتاری کے بعد ایس ایس پی آپریشنز اور ایس ایس پی انویسٹی گیشن پشاور نے ایک پریس کانفرنس کی جس میں گرفتاری کی تصدیق کی گئی اور ابتدائی فرانزک و طبی شواہد اکٹھے کیے گئے۔

جمعہ 11 ستمبر کی صبح سویرے حسبِ معمول وہی پرانا ڈرامہ دہرایا گیا کہ "پولیس چاروں ملزمان کو شواہد کی برآمدگی کے لیے ان کی نشاندہی پر ایک مقام پر لے گئی،” تاہم جیسے ہی پولیس وہاں پہنچی، نامعلوم مسلح افراد نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں پولیس کی حراست میں موجود چاروں ملزمان گولی لگنے سے ہلاک ہو گئے، جبکہ پولیس پارٹی خوش قسمتی سے محفوظ رہی۔
اب "گولی مار کر ہلاک کرنے” کی پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت، قانونی نظام اور انصاف کی فراہمی کے ذمہ دار ادارے مذاق بن کر رہ گئے ہیں۔

وکیل عماد خلیل کے مطابق عوامی اداروں، بالخصوص پولیس کو ہر صورت میں قواعد و ضوابط کی پاسداری کرنی چاہیے کیونکہ انہیں طاقت اور اختیار حاصل ہے۔ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو کل لوگ اپنے مخالفین کو قتل کروانے کے لیے پولیس کو پیسے دیں گے اور اسے "پولیس پر فائرنگ اور ملزمان کی ہلاکت” کا رنگ دے دیا جائے گا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے