سعودی صحافی کا قتل منصوبہ بندی تھی
ترک صدر رجب طیب اردوغان نے کہا ہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کی منصوبہ کئی دن پہلے کی گئی تھی ۔ یہ بات انہوں نے اپنی سیاسی جماعت کے ارکان پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ مشتبہ افراد پر استنبول میں مقدمہ چلایا جائے ۔
ترک صدر کا کہنا تھا ترکی کے پاس ٹھوس ثبوت موجود ہیں کہ دو اکتوبر کو سعودی قونصل خانے میں جمال خاشقجی کے ‘وحشیانہ’ قتل کی منصوبہ بندی پہلے سے کی گئی تھی ۔ اردوغان نے سعودی عرب سے مطالبہ کیا کہ وہ جواب دے کہ جمال خاشقجی کی لاش کہاں ہے اور اور اس کارروائی کا حکم کس نے دیا ۔
یاد رہے کہ جمال خاشقجی امریکی اخبار ‘واشنگٹن پوسٹ’ کے ساتھ منسلک تھے ۔ ان کی موت کیسے ہوئی اس پر سعودی عرب مسلسل بیان تبدیل کر رہا ہے ۔ سعودی عرب کی جانب سے کئی دنوں تک یہ کہنے کے بعد کہ وہ زندہ ہیں یہ تسلیم کیا گیا کہ وہ مارے گئے ہیں ۔
جمال خاشقجی کی موت سعودی عرب، امریکا اور ترکی میں اس وقت ایک تنازعے کے طور پر خبروں میں ہے ۔

