وزیراعظم اور ترجمان میں تکرار
عابد خورشید
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیراعظم اور پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان کے درمیان ہونے والی بحث و تکرار کی کہانی سامنے آئی ہے ۔
کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر ان دنوں یورپ کے دوررے پر ہیں جہاں انہوں نے یورپی پارلیمنٹ میں انسانی حقوق کمیٹی میں مبصر کے طور پر شرکت کی ہے ۔
کمیٹی کے اجلاس میں تمام اراکین نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بات کی تاہم دو یورپی اراکین نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان کو بااختیار بنانے پر بھی زور دیا ۔ وزیراعظم آزادکشمیر فاروق حیدر نے دھیمے انداز میں ان ارکان سے کہا کہ ہم بااختیار ہیں۔
ذرائع کے مطابق اجلاس کے بعد وزیراعظم آزادکشمیر نے دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل سے کہا کہ دیکھ لیں آپ لوگوں کو آزادکشمیر حکومت کو بااختیار بنانے والی تیرہویں ترمیم سے کتنی پرابلم ہے اور دنیا اسی کے متعلق بات کر رہی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ جو یقینی طور پر اس وقت تک آزاد جموں و کشمیر کے عبوری آئین میں ۲۰۱۸ میں کی گئی ۱۳ویں ترمیم کے تحت کشمیر حکومت کو ملنے والے اسٹیٹس سے زیادہ واقف نہیں تھے، بات سمجھ نہ سکے ۔ ڈاکٹر فیصل نے یہ کہہ کر بحث ختم کر لی یہ موقع اس بات کا نہیں ۔
اس خبر کے حوالے سے جب وزیراعظم آزادکشمیر کے آفس سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا یہ واقعہ کمیٹی روم میں پیش نہیں آیا بعد میں اس پر بات ہوئی ۔
کشیمر کے وزیراعظم آفس کے مطابق فاروق حیدر کو بطور وزیراعظم آزادکشمیر یورپین پارلیمنٹ کی انسانی حقوق کمیٹی میں بلایا گیا ۔ اس سے قبل پاکستانی سفارتخانے نے اس کے لیے دعوت نامہ حاصل کرنے کی کوششیں کیں مگر انہیں کامیابی نہیں ملی اور انہیں پورپی پارلیمنٹ میں مدعو نہیں کیا گیا۔
پی ایم آفس کے مطابق 2016 میں اس کا آغاز ہوا تھا۔ پہلی بار کشمیریوں کو بین الاقوامی سطح پر کامیابی ملی جس میں ممبران یورپین پارلیمنٹ واجد خان اور سب سے بڑھ کر چئیرمین کمیٹی ڈاکٹر پانیزری نے کوشش کی جس کے باعث یہ دورہ اور شرکت ممکن ہوئی ۔
دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل سے اس حوالے سے بات کرنے کے لیے رابطہ کیا گیا مگر انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا ۔
خیال رہے کہ آزادکشمیر حکومت کو بااختیار بنانے کے لیے پاکستان کی گزشتہ حکومت کے دور میں تیرہویں ترمیم منظور کی گئی تھی جس پر بعض پاکستانی اداروں کو سخت تشویش لاحق ہے ۔
سابق پاکستانی وزیراعظم شاہد خاقان نے کشمیر کی حکومت کو بااختیار بنانے کے لیے قانون میں یہ ترمیم اپنی حکومت کے آخری دنوں میں کی اور اس حوالے سے پیش آنے والی بہت سی مشکلات کا زکر بھی کیا ۔
وزیراعظم آزادکشمیر تیرہویں ترمیم سے قبل اپنی وزارت عظمی کو محض پوسٹ آفس کی طرح سمجھتے تھے جن کے پاس کوئی اختیار نہ تھا ۔
دوسری طرف پاکستان کے وزیر امور کشمیر علی امین گنڈا پور تیرہویں ترمیم کو سازش قرار دے چکے ہیں اور انہوں نے اس کے خاتمے کا عندیہ بھی دیا ہے۔
پاکستان کی حکومت نے اس پر جائزے کے لیے چند ماہ قبل ایک کمیٹی بھی بنا رکھی ہے۔

