تبدیلی سرکار میں بھی بدمعاشی جاری؟
عظمت گل/ نمائندہ خصوصی
صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع مردان میں جعلی نمبر پلیٹ والی گاڑی کو روکنے پر ٹرینی ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر عبداللہ اور ایکسائز انسپکٹر شہزاد انور بھرے بازار میں دست و گریبان ہوگئے ۔
شیرگڑھ بازار میں موجود عینی شاہدین کے مطابق گاڑی سے اترنے والے شخص نے کہا کہ ’میرا باپ ریٹائرڈ کمشنر اور سسر ڈی آئی جی فیروز شاہ ہے، تمہیں گاڑی کے ساتھ گھسیٹتا ہوا لے کر جاؤں گا-
ایکسائز انسپکٹر انور کے مطابق دھمکی دینے والے شخص کی شناخت بعد ازاں عبداللہ کے نام سے ہوئی جو ٹرینی اسسٹنٹ کمشنر ہے ۔
ایکسائز حکام کے مطابق ہفتہ کو ایکسائز چیک پوسٹ شیر گڑھ پر ایک ٹیوٹا کرولا کو رکنے کا اشارہ دیا جس پر مبینہ طور پر کسی اور ماڈل کی گاڑی کا جعلی نمبر لگا ہوا تھا، گاڑی کے نہ رکنے پر ایکسائز عملے نے تعاقب کرکے شیر گڑھ بازار میں قابو کر لیا –
حکام کے مطابق گاڑی میں موجود سابقہ کمشنر سید محمد جاوید اور اس کے بیٹے جو کہ ٹرینی اسسٹنٹ کمشنر عبداللہ ہے نے ایکسائز انسپکٹر کو گاڑی کو روکنے پر بھرے بازار میں گالیاں دیتے ہوئے سنگین نتائج کی دھمکی دی ۔
مقامی لوگوں نے بتایا کہ گاڑی سے اترنے والے افراد نے بھرے بازار میں سیکرٹری ایکسائز اور ڈائریکٹر جنرل ایکسائز اور دیگر افسروں کو گالیاں دیں جبکہ گاڑی روکنے والے باوردی انسپکٹر کو دھکے دیے ۔
پولیس نے ایکسائز انسپکٹر کی درخواست پر روزنامچہ درج کر لیا ہے تاہم اعلی افسران سے کارروائی کی اجازت ملنے کی منتظر ہے ۔
سیکرٹری ایکسائز ریاض محسود نے انسپکٹر کی بے عزتی اور قانون شکنی کرنے پر سابق کمشنر اور اس کے بیٹے کے خلاف مقدمہ درج کرنے کیلئے ڈی آئی جی مردان سے رابطہ کیا ہے ۔

