خاتون افسر سمیت دو مارے گئے
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کیے گئے قبائلی علاقے میں تعلیمی اداروں کی مانیٹرنگ کے لیے جانے والی ٹیم پر فائرنگ میں خاتون ضلعی افسر اور سیکورٹی اہلکار مارے گئے ہیں ۔
پشاور سے صحافی عظمت گل کے مطابق ڈپٹی کمشنر لکی مروت کے دفتر کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ لکی مروت کے ٹراٸبل سب ڈویژن میں سکولز مانیٹرنگ ٹیم پر حملے میں خاتون آفیسر صفیہ بی بی اور ایک لیوی اہلکار محمد اختر مارے گئے ہیں جبکہ چار افراد زخمی ہوئے ہیں ۔
۔
واقعہ ضلع لکی مروت میں ٹراٸیبل ایریا کے دور دراز علاقے غزبوبہ میں ہیش آیا جہاں فاٹا انضمام کے بعد پہلی مرتبہ محکمہ تعلیم کی مانیٹرنگ ٹیم سکولوں کے معاٸنے کے لیے گٸی تھی۔
مانیٹرنگ ٹیم پر نامعلوم افراد نے فاٸرنگ کی جس سے ایک خاتون مانیٹرنگ آفیسر اور ایک لیوی قورس کا اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہوگٸے۔فاٸرنگ سے چار افراد زخمی بھی ہوٸے ہیں جنہیں ڈراٸیور نے پنکچر ٹاٸر کے ساتھ گاڑی بھگا کر علاقے سے باہر نکالا ہے۔
ڈپٹی کمشنر لکی مروت جہانگیر اعظم اور پولیٹکل حکام موقع پر پہنچے ۔ دو شدید زخمیوں کو بنوں منتقل کیا گیا ۔
علاقے میں شرپسندوں کی تلاش شروع کر دی گئی ہے ۔
وزیراعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے حکام کو ہدایت کی ہے کہ ملزمان کو گرفتار کیا جائے ۔

