پاکستان

زرداری نااہلی کیس میں کیا ہوا؟

اپریل 4, 2019

زرداری نااہلی کیس میں کیا ہوا؟

اسلام آباد ہائیکورٹ نے باسٹھ ون ایف کے تحت نااہلی کی درخواستوں پر سابق صدر آصف علی زرداری سے جواب طلب کیا ہے تاہم درخواست گزاروں کے وکیل کو بھی ہدایت کی ہے کہ دیگر متعلقہ فورم نہ ہونے پر عدالت کو مطمئن کریں۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ عدالتوں کو سیاسی معاملات میں نہ لایا جائے۔ عدالت کے سامنے اٹھارہ ہزار سے زائد مقدمات زیر التوا ہیں۔ جو وقت آپ پارلے منٹ کے بجائے ادھر لیں گے وہ دیگر سائلین کے کیسز پر لگنا چاہئے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں سابق صدر آصف علی زرداری کی انتخابی گوشواروں میں اثاثے چھپانے پر نااہلی درخواست کی سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کی۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ سیاسی معاملات کیلئے پارلیمنٹ بہتر فارم ہے۔ایف آئی اے کا کیس ہے اور ایف آئی اے حکومت کے ماتحت ہے۔ عدالتوں کو ایسے سیاسی معاملات میں نہ لایا جائے۔ سیاسی تنازعات کے حل کیلئے پارلیمنٹ فورم ہونا چاہئے۔ عدالتوں کو اس طرح کے سیاسی تنازعے میں کیوں لایا جاتا ہے؟

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ایف بی آر فورم ہے وہاں درخواست لے کر جا سکتے ہیں۔ پارلیمنٹ احتساب پر کمیٹی بنا سکتی ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کا پاناما کا فیصلہ پڑھیں۔ معاملہ پارلیمنٹ سیمت دیگر فورم پر حل نہ ہوا تب سپریم کورٹ گیا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اس عدالت کے سامنے اٹھارہ ہزار سے زائد مقدمات زیر التوا ہیں۔ جو وقت آپ پارلے منٹ کے بجائے ادھر لیں گے وہ دیگر سائلین کے کیسز پر لگنا چاہئے۔ پارلے منٹ اس حوالے سے خصوصی کمیٹی قائم بھی قائم کر سکتی ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے موقف اپنایا کہ ہم نے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت نااہلی کی درخواست دائر کی۔ ہم آرٹیکل باسٹھ ون ایف کے تحت آصف زرداری کی نااہلی مانگ رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آصف علی زرداری کے مد مقابل پی ٹی آئی کا کوئی امیدوار الیکشن لڑ رہا تھا اور کیا آصف زرداری کے کسی مدمقابل امیدوار نے انتخابی عذر داری کے لیے الیکشن ٹریبونل سے رجوع کیا؟

وکیل نے کہا کہ آصف زرداری کی نااہلی ان دستاویزات کی بنیاد پر مانگ رہے ہیں جو الیکشن کے بعد منظر عام پر آئیں۔ زرداری کے نیویارک فلیٹس کی دستاویز وہاں کے متعلقہ شعبے سے تصدیق شدہ ہیں۔

عدالت نے آصف علی زرداری کو پری ایڈمیشن نوٹسز جاری کرتے ہوئے درخواست پر تحریری جواب طلب کرلیا۔ عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کو آئندہ سماعت پر عدالت کو مطمئن کرنے کے لیے دلائل طلب کر لیے اور ریمارکس دیئے کہ پہلے آپ عدالت کو مطمئن کریں کہ آپ کے پاس کوئی اور فورم دستیاب نہیں۔ کیس کی سماعت دو ہفتوں کیلئے ملتوی کردی گئی ۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے