حمزہ کی ضمانت پر سوال
شاہد بھٹی ایڈووکیٹ
سوال بالکل جائز ہے کہ کیا اب ہر ملزم کو حق حاصل ہو گا کہ وہ بغیر عدالت میں پیش ہوے ہفتہ کے روز ہائی کورٹ سے بذریعہ وکیل حفاظتی ضمانت کے لیے رجوع کر سکے۔
سوال اس سے پہلے بھی بالکل جائز تھا کہ کیا آئندہ دیگر مقدمات میں بھی سزا یافتہ ملزمان کو طبی بنیادوں پر چھ آٹھ ہفتوں کے لیے بغرض علاج ضمانت دی جایا کرے گی۔
لیکن ان سوالات کے اٹھائے جانے کا فائدہ تبھی ہے جب سیاسی عینک اتار کر ان سوالات کا بھی ایمانداری سے جائزہ لیا جائے کہ:
’کیا ٹیکس کی عدم ادائیگی یا مالی بے ضابطگی کے الزام کی تفتیش کے اختیارات قانون میں کسی خاص ادارے کے پاس ہونے کے باوجود اس ادارے سے یہ اختیارات لے کر اب ہر ایسے مقدمہ کی تفتیش کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) ہی تشکیل دی جایا کرے گی۔‘
’کیا اب سے ہر جے آئی ٹی میں من پسند ارکان کے تقرر کے لیے واٹس ایپ کالوں کے ذریعے احکامات دیے جایا کریں گے۔‘
’کیا اب ہر الزام علیہ کو قانون میں دی گئی تعریف کی بجائے بلیک لا ڈکشنری میں دی گئی اثاثے کی تعریف پر پورا اترنے والے وصول شدہ یا غیر وصول شدہ ہر اثاثے کو ظاہر نہ کرنے پر پارلیمنٹ کا رکن بننے کے لیے بغیر ٹرائل نا اہل قرار دیا جایا کرے گا۔‘
کیا اب ہر مقدمہ کے ٹرائل کو جلد از جلد مکمل کرنے کے لیے وقت مقرر کر کے روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرنے کا حکم دیا جایا کرے گا۔
کیا اب ہر مقدمے میں ٹرائل کی مانیٹرنگ کے لیے لیے سپریم کورٹ کا خصوصی بینچ تشکیل دیا جایا کرے گا۔
کیا اب ہر ٹرائل کے درمیان جج کے ریٹائر ہو جانے پر اس کی مدت ملازمت میں توسیع کر دی جایا کرے گی۔
کیا اب سے تمام مقدمات میں کرپشن ثابت نہ ہونے کے باوجود فرضی ملکیت کی بنیاد پر ہی احتساب عدالتوں کی طرف سے سزائیں سنائی جایا کریں گی۔
(سوالات سارے اہم ہیں ۔ سوالات سارے قانونی ہیں ۔
ان کے جواب سب کو معلوم بھی ہیں؟ مگر کیا ہر ایک اپنی پسند کے جواب سے ہی مطمئن ہوا کرے گا؟۔ ادارہ)
بشکریہ شاہد بھٹی فیس بک پوسٹ

