پاکستان24 متفرق خبریں

جج نے پانامہ پر استعفا دے دیا

اپریل 9, 2019

جج نے پانامہ پر استعفا دے دیا


پاکستان میں پانامہ پیپرز میں آف شور کمپنی کے ڈائریکٹر کے طور پر نام آنے والے لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فرخ عرفان نے اپنے عہدے سے استعفا دے دیا ہے ۔

جسٹس فرخ عرفان کے خلاف اعلی عدلیہ کے ججوں کا احتساب کرنے والے فورم سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس میں بھی زیر سماعت ہے ۔

سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس فرخ عرفان کی وکالت کرنے والے حامد خان ایڈووکیٹ نے پاکستان ٹوئنٹی فور سے بات کرتے ہوئے استعفے کی تصدیق کی ہے ۔

جسٹس فرخ عرفان نے اپنے استعفا میں لکھا ہے کہ وہ سخت مایوسی اور غصے کی کیفیت میں اپنے عہدے سے مستعفی ہو رہے ہیں ۔

انہوں نے اپنے استعفے میں لکھا ہے کہ ’مجھے آزادانہ اور غیر جانبدارانہ انداز میں کام کرنے سے زبردستی روکا گیا اور میرے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو جاؤں ۔

جسٹس عرفان نے اپنے استعفے میں یہ بھی لکھا کہ ان کا جرم یہ ہے کہ وہ اعلی پوزیشن پر موجود کسی شخص کے بیٹے، داماد، بھائی، بھانجے یا بھتیجے نہیں اور نہ کسی برادری، گروپ، گروہ یا قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں جو ان ’سپریم جوڈیشل کونسل’ کی غیر قانی کارروائی سے بچائیں ۔ اور ’میرا جرم یہ بھی ہے کہا کہ اس نظام میں میرا کوئی ‘گاڈفادر” بھی نہیں ہے ۔؛

جسٹس عرفان کے مطابق انہوں نے اپنے پورے کیرئیر کے دوران بطور طالب علم، وکیل، شوکت خانم کے بورڈ آف ڈائیرکٹر کے ممبر، پنجاب یونیورسٹی کے فیکلٹی کے رکن اور بطور جج لاہور ہائیکورٹ پاکستان کے مفاد کو ہمیشہ مقدم رکھا۔ 

جسٹس عرفان نے اپنے استعفی میں لکھا کہ بطور جج اپنے 9 سالہ کیرئیر کے دوران انہوں نے 29 ہزار کیسز کا فیصلہ بلا کسی خوف اور لالچ کے کیا۔ 

اپنے استعفی میں جسٹس فرخ عرفان لکھا ہے کہ پاکستان سے محبت ان کی زندگی کا محور رہا ہے۔ ’بطور دھرتی کے بیٹے کے میری تمام کوششیں پاکستان کی معاشی، معاشرتی اور قانونی بہتری  کے لیے رہی ہیں اور ائندہ بھی رہیں گی۔؛

انہوں نے اپنے استعفی میں 1995 کے پاک بھارت جنگ کے دوران لاہور کے ریگل چوک میں اپنے انکل اور والد کے ہمراہ ‘ٹیڈی پیسہ’ جمع کرنے اور پھر انہیں واہگہ کے محاز پر فوجیوں تک پہنچانے کا بھی ذکر کیا ہے۔ 

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے