پاکستان24 متفرق خبریں

سری لنکا میں چہرہ ڈھانپنے پر پابندی عائد

اپریل 29, 2019

سری لنکا میں چہرہ ڈھانپنے پر پابندی عائد

سری لنکن صدر نے ایسٹر کی تقریبات پر والے خود کش حملوں کے ایک ہفتے کے بعد ہنگامی قانون کے تحت ملک میں نقاب پہننے اور چہرہ ڈھانپنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

سری لنکن صدر میتھریپالا سریسینا نے اعلان کیا ہے کہ وہ ہنگامی قانون کے تحت عوامی مقامات پر کسی بھی طرح  کے نقاب یا چہرہ چھپانے پر پابندی لگا رہے ہیں ۔

صدر کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس پابندی کا اطلاق پیر سے ہوگا۔

سری لنکن صدر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس پابندی کا مقصد قومی سلامتی کو یقینی بنانا ہے اور کسی کو بھی اپنا چہرہ چھپا کر اپنی شناخت کو مشکل نہیں بنانا چاہیے۔

اس پابندی سے دو روز قبل ہی مسلم مذہبی رہنماؤں نے بھی مسلمان خواتین پر زور دیا ہے کہ وہ کسی بھی ردعمل سے پچنے کے لیے نقاب نہ پہنیں ۔

بدھ مت مذہب کے پیروکاروں کی اکثریت والے سری لنکا میں لگ بھگ 10 فیصد مسلمان بستے ہیں۔ سری لنکا کے مسلمان مذہب کے معتدل پیروکار ہیں اور بہت کم خواتین اپنا چہرہ ڈھانپتی ہیں۔   

خیال رہے کہ ایسٹر دھماکوں کے بعد سری لنکن کابینہ نے برقع اوڑھنے اور چہرہ چھپانے پر پابندی عائد کرنے کی تجویز دی تھی جس پر وزیراعظم نے مسلم کمیونٹی کے علما کو اعتماد میں لینے کا کہا تھا تاہم اب انہوں نے صدارتی احکامات کے ذریعے برقعے اور چہرے کے نقاب پر پابندی لگانے کی منظوری دے دی ہے۔

یاد رہے کہ ایسٹر کی تقریبات کے دوران سری لنکا میں  گرجا گھروں اور ہوٹلوں پر 8 خود کش دھماکوں میں 250  سے زائد افراد کی ہلاکت ہوگئے تھے جس کے بعد برقعے اور نقاب پر پابندی کے مطالبات سامنے آئے تھے۔

سیکورٹی اداروں اور دیگر طبقوں کا کہنا ہے کہ چہرہ ڈھانپنے اور برقعہ اوڑھنے سے کسی شخص کی شناخت ممکن نہیں رہتی جس کا دہشت گرد فائدہ اُٹھا سکتے ہیں ۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے