پاکستان24 متفرق خبریں

جج نے کہا کہ اوئے، وکیل نے کہا ’یو اوئے‘

مئی 2, 2019

جج نے کہا کہ اوئے، وکیل نے کہا ’یو اوئے‘

پاکستان کی سپریم کورٹ نے اسلام آباد کی لال مسجد سے ملحق مدرسے کا پلاٹ کا مقدمہ نمٹا دیا ہے۔

کیس کی سماعت کے دوران جسٹس گلزار احمد نے مقدمہ نمٹانے کا حکم جاری کیا تو وکیل طارق اسد نے کہا کہ اس میں مدرسے کے پلاٹ کے علاوہ دیگر معاملات بھی ہیں ۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ بتائیں کون سے دیگر ایشوز ہیں ۔ وکیل نے فائل میں سے دستاویزات ڈھونڈنا شروع کیں تو کچھ وقت لگ گیا ۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ لال مسجد لاپتہ افراد کا معاملہ پہلے ہی کمیشن کے پاس ہے، یہاں ابھی نہیں سن سکتے جس پر طارق اسد ایڈووکیٹ صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑ گئے اور کہا کہ عدالت میں جھک مارنے نہیں آیا ۔

جسٹس گلزار احمد اس بات پر برہم ہوئے اور وکیل کو مخاطب کر کے کہا کہ اوئے ۔ وکیل نے جواب میں کہا کہ ”یو اوئے۔“

بنچ میں شامل جسٹس یحیا آفریدی نے معاملہ ختم کرانے کے لیے وکیل سے کہا کہ آپ تشریف رکھیں، بعد میں سن لیں گے ۔

عدالت سے باہر رپورٹرز نے وکیل طارق اسد سے پوچھا کہ اندر کیا ہوا؟

طارق اسد نے جواب دیا کہ مجھے سمجھ نہیں آتی، غصے میں بول جاتا ہوں ۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے