پاکستان24 متفرق خبریں

’مشرف پہچان اور بول نہیں سکتے‘

مئی 2, 2019

’مشرف پہچان اور بول نہیں سکتے‘

عابد علی / صحافی

پاکستان میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے ملزم کی بریت کی درخواست سماعت کے لیے منظوری کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کیا ہے۔

خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کی بیماری کے بناء پر کیس ملتوی کرنے کی درخواست منظور کرتے ہوئے کیس کی سماعت 12 جون تک ملتوی کر دی ہے۔

جمعرات کو جسٹس طاہرہ صفدر کی سربراہی میں جسٹس نذر اکبر اور جسٹس شاہد کریم پر مشتمل تین رکنی خصوصی عدالت نے سنگین غداری کیس کی سماعت کی ۔ پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر عدالت کے سامنے پیش ہونے پر استغاثہ کے کے سربراہ نصیر الدین نیئر نے اعتراض کیا ۔

سماعت کا ویڈیو احوال صحافی عبدالقیوم صدیقی کی زبانی

نصیرالدین نیئر ایڈووکیٹ نے کہا کہ ملزم پیش نہیں ہورہا تو اس کے حقوق بھی ختم ہوگئے، ملزم کے وکیل بھی پیش نہیں ہو سکتے کیونکہ سپریم کورٹ نے اس کیس کو چلانے کے لیے طریقہ کار وضع کر دیا ہے۔

خصوصی عدالت نے پراسیکیوٹر کا اعتراض مسترد کر دیا اور پرویز مشرف کے وکیل کو اپنے موقف پیش کرنے کی اجازت دی۔

پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر نے کیس کی ملتوی کرنے کی درخواست جو انہوں نے کچھ دیر قبل ہی جمع کروائی تھی۔

وکیل نے کہا کہ وہ گزشتہ روزالتوا کی درخواست جمع نہیں کرا سکے تھے ۔ ان کا کہنا تھا کہ خصوصی عدالت کے قانون کی شق 9 کے تحت عدالت اگر ضروری سمجھے تو کسی بھی مقدمے کو ملتوی کر سکتی ہے۔

وکیل نے کہا کہ جس الزام پر مقدمہ ہے وہ جرم 2007ء میں ہوا۔ کیس 2013ء میں درج کیا گیا۔ ’پرویز مشرف پر تین مختلف مقدمات بنائے گئے جن میں بے نظیر بھٹو قتل کیس، اکبر بگٹی قتل کیس اور ججوں کی نظربندی کا مقدمہ شامل ہے۔‘

وکیل کا کہنا تھا کہ غداری کیس میں مارچ 2014ء میں فرد جرم عائد کی گئی استغاثہ دو سال اور تین ماہ میں کیس ثابت نہیں کر سکا اس عرصہ کے دوران پرویز مشرف ملک میں موجود تھے۔اگر عدالت کہے تو میں اس عرصہ کے دوران عدالتی حکامات پڑھ کر سنا سکتا ہے۔

عدالت نے کہا کہ وہ احکامات ہمارے علم میں ہیں پڑھنے کی ضرورت نہیں۔ مشرف کے وکیل نے کہا کہ مقدمے کے پہلے گواہ نے عدالت میں پیش ہو کر یہ بیان دیا ہے کہ مشرف کو علالت کی وجہ سے بیرون ملک جانے دیا گیا۔

وکیل نے کہا کہ پرویز مشرف کو76 سال کی عمر میں شدید طبی مسائل کا سامنا ہے۔ ’ان امراض کے حوالے سے رپورٹ عدالت کے سامنے ہے۔ پرویز مشرف وطن واپس آنا چاہتے ہیں لیکن دل کے عارضے اور ریڑھی کی ہڈی کی تکلیف کی وجہ سے وہ چل پھر نہیں سکتے۔‘

سلمان صفدر ایڈووکیٹ نے کہا کہ ڈاکٹرز نے سفر کو مشرف کی زندگی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ ’گزشتہ دو سال میں ان کی چالیس مرتبہ کیموتھراپی ہو چکی ہے اور عدالت کی طرف سے انہیں مفرور بھی قرار نہیں دیا گیا۔‘ اس لیے مناسب وقت دیا جائے تاکہ وہ عدالت میں پیش ہو کر اپنا بیان قلمبند کروا سکیں۔

وکیل کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف کی میڈیکل رپورٹس اور ہسپتال میں داخلے کی تصاویر عدالت کے سامنے پیش کی گئی ہیں۔ ’پرویز مشرف کو گردوں اور ریڑھی کی ہڈی کی سخت تکلیف ہے۔ دو ہفتے قبل میں خود دبئی گیا تو وہ بول بھی نہیں سکتے تھے اور کسی چیز پر فوکس نہیں کر پا رہے تھے۔‘

وکیل نے کہا کہ ایسی حالت میں پرویز مشرف کی طرف سے عدالت کے سوالوں کے جواب نہیں دے سکتا۔ وکیل نے کہا کہ میرے عدالت میں پیش ہونے پر اس وقت اعتراض کیا جا سکتا ہے جب یہ ثابت ہو کہ ملزم پیش سے ہونے سے انکاری ہے۔

پراسیکیوٹر نصیر الدین نیئر نے کہا کہ وہ پرویز مشرف کی التواء کی درخواست پر اعتراض کرتے ہیں عدالت یہ کیس ملتوی نہیں کر سکتی ملزم کی غیر موجودگی میں کیس کی سماعت مکمل کی جائے کیونکہ شق 9 کے تحت عدالت وکیل کو ملزم کی جگہ پر رکھ کر ٹرائل کر سکتی ہے۔

پراسیکیوٹر نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا دوبارہ حوالہ دیا تو بینچ کے رکن جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہاں لکھا ہے کہ ہم کیس کی سماعت ملتوی نہیں کر سکتے۔

پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر نے مشرف کی بریت کی درخواست پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ قانون یہ کہتا ہے کہ وزیراعظم یا وزارت داخلہ کا انفرادی اقدام حکومت کا اقدام نہیں ہو سکتا۔ ’حکومت کا مطلب کابینہ ہوتا ہے وزیراعظم کی ہدایت پر یہ کیس بنایا ہی نہیں جا سکتا جبکہ گواہ نمبر ایک نے اپنے بیان میں کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر یہ کیس بنایا گیا ہے ۔‘

مشرف کے وکیل نے کہا کہ عدالت اس کیس کو ختم کرے، ہماری درخواست پر حکومت کو نوٹس کر کے جواب طلب کیا جائے ۔

عدالت نے پرویز مشرف کے وکیل کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے التواء کی درخواست منظور کرتے ہوئے سماعت 12 جون تک ملتوی کردی جبکہ بریت کی درخواست پر وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے ۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے