پاکستان

سانپ والی چپل کی شکایت کس نے لگائی؟

انہوں نے لکھا ہے کہ ”وزیراعظم صاحب کی جو چپل قبضے میں لی گئی ہے، فدوی نے چوتھے مہینے کی 23 تاریخ کو اس کی چغلی لگائی تھی اور ڈبلیو ڈبلیو ایف نے معاملہ پاکستانی محکمے کو بھجوا دیا تھا۔“

جون 3, 2019

سانپ والی چپل کی شکایت کس نے لگائی؟

‏پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے دارالحکومت پشاور میں محکمہ وائلڈ لائف نے چھاپہ مار کر وزیراعظم کے لیے سانپ کی کھال سے بنائے گئے چپل تحویل میں لے کر مقدمہ درج کیا ہے۔

فیس بک پر لکھاری اور تجزیہ کار محمد اشفاق نے دعوی کیا ہے کہ محکمہ وائلڈ لائف کو شکایت انہوں نے درج کرائی تھی۔

انہوں نے لکھا ہے کہ ”وزیراعظم صاحب کی جو چپل قبضے میں لی گئی ہے، فدوی نے چوتھے مہینے کی 23 تاریخ کو اس کی چغلی لگائی تھی اور ڈبلیو ڈبلیو ایف نے معاملہ پاکستانی محکمے کو بھجوا دیا تھا۔“

محمد اشفاق نے اپنی تحریر کے ساتھ وائلڈ لائف کو بھیجی شکایت کا سکرین شاٹ بھی منسلک کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ”مقصد چپل کی نہیں کھال کی ضبطی تھا۔ نایاب جانوروں کی کھالوں سے بنی چیزیں استعمال کر کے ہم ان جانوروں کے قتل کا سبب بنتے ہیں۔ چاچا نور کا جذبہ محبت قابل ستائش مگر حرکت قابل مذمت تھی۔“

محمد اشفاق کے مطابق بہتر ہوتا کہ وزیراعظم خود انہیں منع فرما دیتے۔ لیکن چلیں ہم کس مرض کی دوا ہیں۔

خیال رہے کہ انگریزی روزنامے ٹریبیون نے 23 اپریل کو سانپ کی کھال سے عمران خان کے لیے چپل تیار کرنے والے کاریگر کی خبر دی تھی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے