پاکستان24

’میڈیا مالکان حکومت کے سپاہی ہیں‘

’یہ میڈیا میں بیٹھے ہمارے فوجی اور سپاہی ہیں جو پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور شناخت کے تحفظ میں ریاست کے ساتھ کھڑے ہو کر حکومت کے بیانیے کو عوام تک پہنچانے میں پارٹنر کا کردار ادا کر رہے ہیں۔‘

جولائی 25, 2019

’میڈیا مالکان حکومت کے سپاہی ہیں‘

پاکستان میں وزیراعظم عمران خان کی اطلاعات کی مشیر فردوس عاشق اعوان نے امریکی صدر ٹرمپ کے کشمیر پر ثالثی کے بیان کو اجاگر کرنے پر ٹی وی چینل کے مالکان کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ میڈیا میں بیٹھے ہمارے فوجی اور سپاہی ہیں جو پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور شناخت کے تحفظ میں ریاست کے ساتھ کھڑے ہو کر حکومت کے بیانیے کو عوام تک پہنچانے میں پارٹنر کا کردار ادا کر رہے ہیں۔‘

حکومت نے الیکٹرانک میڈیا کے لیے ’میڈیا عدالتیں‘ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاق میں تحریک انصاف کی حکومت نے کہا ہے کہ ذرائع ابلاغ سے متعلق مقدمات کو سننے کے لیے میڈیا کورٹس کے قیام کیا جائے گا جو پیمرا سے مل کر کام کریں گی۔

مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کراچی میں ٹی وی چینلز کے مالکان کی تنظیم پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے) کے وفد سے ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ انہوں نے میڈیا کورٹس بنانے کے لیے چینلز مالکان کو تجویز پیش کی ہے۔

اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ان کی میڈیا چینلز کے مالکان سے ملاقات میں اہم باتیں ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا مالکان بہت زیادہ محب وطن ہیں اور ’ہندوستان کے ساتھ میڈیا وار میں چینل مالکان کی تنظیم ملک کے دفاع کی پہلی دیوار ہے۔‘

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ میڈیا عدالتوں کا مقصد میڈیا انڈسٹری کے تنازعات کو ان خصوصی عدالتوں کے ذریعے جلد حل کرنا ہے۔ ’جب حکومت یا پیمرا ٹی وی چینلز اور کیبل آپریٹرز کے خلاف کوئی ایکشن لیتی ہے تو وہ عدالت چلے جاتے ہیں اور پھر سالہا سال مقدمات چلتے ہیں۔ اس لیے حکومت پیمرا کے ساتھ مل کر میڈیا کورٹس بنانے جا رہی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ میڈیا ورکرز چینلز میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کی مشکلات پر بھی مالکان سے بات کی ہے۔ ’حکومت نے تمام شراکت داروں کی رائے لینے کے بعد اشتہارات کی نئی پالیسی رائج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ الیکٹرانک میڈیا کو ریگولیٹر پیمرا ہے جس سے چینل مالکان کو شکایات ہیں۔ ’حکومت چینل مالکان اور پیمرا کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرے گی تاکہ ضابطہ اخلاق پر بھی عمل ہو اور کسی کے ساتھ ناانصافی بھی نہ ہو۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میڈیا کورٹس صرف اور صرف میڈیا سے متعلق مقدمات کو سنیں گی۔‘

وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات نے کہا کہ وزارت اطلاعات میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے ساتھ مل کر ڈیجیٹلائزیشن پالیسی بھی لے کر آرہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت میڈیا ورکرز کی تنخواہوں پر سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے