تقریباً 10 ہزار پاؤنڈ کی واپسی، برطانیہ میں پناہ گزینوں کے لیے نیا قانون
برطانیہ میں حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پناہ کے متلاشی افراد کو ملازمت حاصل کرنے کے بعد اپنی رہائش اور معاونت پر آنے والے اخراجات کے لیے تقریباً 10 ہزار پاؤنڈزز واپس کرنا ہوں گے۔
یہ نئی شرائط آئندہ امیگریشن اینڈ اسائلم بل کا حصہ ہوں گی، جو منگل کو پارلیمان میں پیش کیا جائے گا۔ ان قواعد کے تحت مالی طور پر استطاعت رکھنے والے بالغ افراد سے یہ رقم اقساط میں وصول کی جائے گی۔
یہ شرط ان پناہ گزینوں پر لاگو ہو گی جنھیں برطانیہ میں کام کرنے کا حق حاصل ہے، اور مستقل سکونت حاصل کرنے کا اہل بننے سے قبل انھیں یہ رقم ادا کرنا ہو گی۔
وزیرِ داخلہ شبانہ محمود نے کہا کہ یہ تبدیلیاں اس بات کی عکاس ہیں کہ ’پناہ کے لیے معاونت ایک حق ہے، لیکن اس کے ساتھ ایک ذمہ داری بھی وابستہ ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’جب لوگ معاشی طور پر تعاون کرنے اور برطانوی عوام کی فیاضی کا بدلہ چکانے کے قابل ہو جائیں تو ہم ان سے یہی توقع رکھتے ہیں۔‘
ان تجاویز کے تحت مخصوص آمدن حاصل کرنے والے تارکینِ وطن کو ایک مقررہ رقم واپس کرنا ہو گی، جس کے بارے میں توقع ہے کہ وہ 10 ہزار پاؤنڈز ہو گی۔
وزارتِ داخلہ نے ابھی یہ طے نہیں کیا کہ ماہانہ اقساط کی ادائیگی شروع کرنے کے لیے کم از کم کتنی آمدن درکار ہو گی۔
وزیرِ داخلہ کو مستقبل میں اس رقم اور ادائیگی کی حد میں رد و بدل کا اختیار حاصل ہو گا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ یہ نظام ’ٹیکس دہندگان کے لیے منصفانہ ہو اور کسی بھی تارکِ وطن کو کسمپرسی کا شکار نہ کرے۔‘