شاہد خاقان سے ن لیگی ڈرنے لگے
پاکستان کے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اس وقت احتساب بیورو (نیب) کی تحویل میں ہیں مگر ان کی اپنی ہی پارٹی کے بعض رہنما اور ارکان قومی اسمبلی ان کو دیکھ کر راستہ بدل دیتے ہیں۔
منگل کو نیب حکام کی تحویل میں قومی اسمبلی پہنچنے والے سابق وزیراعظم نے زیادہ وقت اپوزیشن لیڈر کے چیمبر میں گزارا۔
اس دوران مسلم لیگ ن کے کئی ارکان قومی اسمبلی دروازے سے ہی شاہد خاقان عباسی کو دیکھ کر واپس مڑ گئے۔
صحافی بشیر چودھری نے اس بارے میں ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ اپوزیشن لیڈر کے چیمبر میں شاہد خاقان عباسی موجود تھے اور لیگی رہنما وہاں جانے سے گھبرا رہے تھے۔ ”رانا تنویر نے خواجہ آصف اور رانا ثناءاللہ کو اندر جانے سے روکتے ہوئے کہا کہ اندر وہ بیٹھا ہے۔ آئیں کہیں اور جا کر بیٹھتے ہیں۔“
شاہد خاقان عباسی کو نیب کی حراست میں بکتر بند گاڑی میں پارلیمنٹ ہاؤس لایا گیا تھا۔
میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نیب آرڈیننس میں ترامیم ضروری ہیں ”بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ نیب کا ادارہ ہی ختم ہونا چاہیے یہ ریاستی دہشت گردی کا طریقہ ہے اسے ختم ہونا چاہیے، بڑی آسان ترمیم ہے اسے ختم کیا جائے۔“
واضح رہے کہ شاہد خاقان عباسی نے آرمی ایکٹ میں ترمیم پر سخت مؤقف اپنایا تھا اور پارٹی پالیسی کے برعکس ترمیم کے حق میں ووٹ نہ دیا۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ مسلم لیگ ن میں کوئی تقسیم نہیں ہو رہی، ن لیگ میں تقسیم کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔
ایم کیو ایم اور حکومت کے درمیان پیدا ہونے والی صورت حال پر شاہد خاقان نے کہا کہ وہ جانیں اور وہ جانیں میں اس پر تبصرہ نہیں کروں گا۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ان کا آپریشن ہو گیا ہے اور اب ان صحت بہتر ہے۔

