نئے پاکستان میں آٹے کا بھی بحران
پاکستان کے بڑوں شہروں میں آٹے کا بحران دیکھنے میں آیا ہے اور کئی شہروں میں آٹے کی بوری کی قیمت میں اضافے کے بعد شہری لمبی قطاروں میں سڑکوں پر کھڑے ہو کر ٹرکوں سے خریداری کرتے دکھائی دیے ہیں۔
وزیر ریلوے شیخ رشید نے اس دوران بیان دیا ہے کہ دسمبر جنوری میں لوگ روٹی زیادہ کھاتے ہیں اس لیے بحران پیدا ہوا جبکہ خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ روٹی نان کی قیمت بڑھانے نہیں دیں گے نانبائی وزن کم کر لیں۔
ادھر اپوزیشن لیڈر شہاز شریف نے لندن سے حکومت کی مذمت میں بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بتایا جائے گندم کہاں گئی اور بحران کیوں پیدا ہوا۔؟

سوشل میڈیا پر صارفین نے حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر طرف نااہلی اور نااہلوں کا راج ہے جس کی وجہ سے ایک کے بعد دوسرا بحران جنم لیتا ہے۔

