پاکستان

جسٹس فائز کیس: نئے سوالات اور دلائل

جنوری 20, 2020

جسٹس فائز کیس: نئے سوالات اور دلائل

پاکستان کی سپریم کورٹ نے یہ سوال اٹھایا ہے اگر اس دلیل کو تسلیم کر لیا جائے کہ اعلیٰ عدلیہ کے جج کے خلاف انکوائری صرف جوڈیشل کونسل ہی کر سکتی ہے تو کیا ایسی صورت میں جوڈیشل کونسل کے خلاف آئینی درخواست قابل سماعت ہوگی؟

وکیل میاں رضا ربانی نے اپنے دلائل میں سپریم کورٹ کو بتایا جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کے خلاف ایف آئی اے، آئی ایس آئی، ایف بی آر نے انکوائری کے لیے جو طریقہ کار اپنایا وہ خلاف قانون ہے، اگر ایسا کرنے کی اجازت دے دی گئی تو اس سے کھلے عام خونی کھیل شروع ہوگا اور ملک میں افراتفری پیدا ہوجائے گی۔

رپورٹ: جہانزیب عباسی

درخواست گزار سندھ بار کونسل کے وکیل میاں رضا ربانی نے جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دس رکنی بنچ کا مقدمہ سننے پر مسرت کا اظہار کیا ہے۔

میاں رضا ربانی نے دلائل کے آغاز میں کہا میں سوچ رہا تھا یہ مقدمہ سپریم کورٹ کا دس رکنی بنچ سنے گایا نو رکنی؟ لیکن ابھی سپریم کورٹ کے دس جج صاحبان یہ مقدمہ سننے کے لیے بیٹھے ہیں مجھے خوشی ہے۔ بنچ کے سربراہ جسٹس عمر عطاء بندیال نے جواب دیا شکریہ۔

واضح رہے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی شکایت سننے والی سپریم جوڈیشل کونسل کے چیئرمین چیف جسٹس گلزار احمد ہیں،سابق چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد جسٹس عمر عطاء بندیال سینیارٹی کی بنیاد پر جوڈیشل کونسل کا حصہ ہیں۔

صدر مملکت عارف علوی نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف مس کنڈکٹ کی بنیاد پر جوڈیشل کونسل کو ریفرنس بھیجا تھا۔جسٹس قاضی فائزعیسیٰ سمیت ملک بھر کی بار کونسلز اور بار ایسوسی ایشنز نے صدارتی ریفرنس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کررکھا ہے۔

سپریم کورٹ میں مقدمے کی بائیسویں سماعت ہوئی تو میاں رضا ربانی نے دلائل میں کہا میں صدارتی ریفرنس دائر ہونے سے قبل اپنائے گئے طریقہ کار، صدارتی ریفرنس میں برتی گئی قانونی و حقائق کی بدنیتی،استثنیٰ کے باوجود صدر مملکت کیخلاف آئینی درخواست سنے جانے،جوڈیشل کونسل کے طریقہ کار پر دلائل دونگا۔

میاں رضا ربانی نے صدارتی ریفرنس دائر ہونے سے قبل ایسٹ ریکوری یونٹ، ایف آئی اے، وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم و دیگر عوامل کی انکوائری کے طریقہ کار کا پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا اعلیٰ عدلیہ کے جج کیخلاف انکوائری کرنے کا خصوصی اختیار صرف سپریم جوڈیشل کونسل کو حاصل ہے۔

سندھ بار کونسل کے وکیل نے کہا اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کیخلاف انکوائر ی کرنے کے اختیار سے حکمران طبقے (ایگزیکٹو)کو الگ رکھنے میں حکمت اور منطق یہ ہے کہ عدلیہ انتظامیہ کے شکنجوں سے محفوظ رہے،جس طرح اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان کی تعیناتی خود مختار انداز سے ہوتی ہے اسی طرح جج کیخلاف شکایت /انکوائری کا طریقہ کار بھی جوڈیشل کونسل کے ذریعے خود مختار انداز میں ہوتا ہے،آرٹیکل 175کے تحت اعلیٰ عدلیہ کے جج کا تقرر ہوتا ہے تو آرٹیکل 209جج کے معیار کا تعین کرتا ہے،وہ ریاستِ کیلا(بنانا ری پبلک) بن جاتی ہے جہاں عدلیہ خود مختار نہ ہو۔

بنچ کے سربراہ جسٹس عمر عطاء بندیال نے سوال اٹھایا آئین پاکستان کے مطابق صدر مملکت انتظامیہ(ایگزیکٹو) کا حصہ نہیں ہیں،اگر صدر مملکت کو ربڑ سٹیمپ قرار دیں تو پھر معاملہ سنگین ہوگا۔

میاں رضا ربانی نے 1956،1962اور 1973کے آئین کا تاریخی پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا وقت کے کیساتھ ساتھ صدر مملکت کے اختیارات کو محدود کیا گیا،پہلے قومی اہمیت کے حامل معاملے پر صدر کو ریفرنڈم کرانے کا اختیار حاصل تھا،ضیاء الحق نے اسلام کے نام پر ریفرنڈم کرایا،یہ عدالت سیاسی فورم نہیں ہے اس لیے مزید بات کرنا مناسب نہیں،اب آئین پاکستان کے تحت صدر مملکت کو ریفرنڈم کرانے کیلئے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظوری ضروری ہے۔

ایڈووکیٹ میاں رضاربانی نے کہا اعلیٰ عدلیہ کی خودمختیار ی کو مدنظر رکھتے ہوئے اعلیٰ عدلیہ کے جج کے کنڈکٹ کو جانچنے کا اختیار جوڈیشل کونسل کو سونپا گیا۔اس پر جسٹس مقبول باقر بولے کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں اعلیٰ عدلیہ کی خود مختاری کو قائم رکھنے کیلئے پارلیمنٹ کو جج کیخلاف مس کنڈکٹ کے جا ئزے کے عمل سے دور رکھا گیا۔ میاں رضا ربانی نے ہاں میں جواب دیا۔

میاں رضا ربانی نے دلائل میں مزید کہا جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کیخلاف ایف آئی اے،آئی ایس آئی،ایف بی آر نے انکوائری کیلئے جو طریقہ کار اپنایا وہ خلاف قانون ہے،اگر ایسا کرنے کی اجازت دے دی گئی تو اس سے کھلے عام خونی کھیل شروع ہوگا اور ملک میں افراتفری پیدا ہوجائے گی،اگر ریفرنس بنانے کیلئے مواد کم ہو تو کونسل کو بھیجنے کی بجائے نامکمل معلومات واپس کی جاتی ہیں،جب کسی جج کیخلاف شکایت چیف جسٹس کو بھیجی جائے تو ایک جج کے زریعے الزامات کا جائزہ لیا جاتا ہے پھر معاملہ کونسل کو بھیجا جاتا ہے،کونسل پھر فائنڈنگ کے بعد نوٹس جاری کرتی ہے۔

جسٹس فیصل عرب نے کہا کونسل صدارتی ریفرنس پر انکوائری کرنے کی پابندہے۔رضا ربانی نے جواب دیا میری نظر میں ایسا کرنا لازم نہیں ہے۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا جوڈیشل کونسل کی انکوائری متعلقہ جج کو نوٹس جاری کرنے پر ہی شروع ہوتی ہے،جوڈیشل کونسل نوٹس جاری کرے تو کیا جج کو الزامات کا جواب نہیں دینا چاہیے،صدر کو مادی النظر میں ٹھوس مواد فراہم کیا گیا،مواد قانونی طریقے سے اکھٹا کیا گیا یا نہیں یہ الگ بات ہے،آپ خود کہہ رہے ہیں انکوائری صرف جوڈیشل کونسل ہی کرسکتی ہے، کیا ایسی صورت میں جوڈیشل کونسل کیخلاف آئینی درخواست قابل سماعت ہوگی؟کونسل خود بھی مواد اکھٹا کرنے کا کہہ سکتی ہے، کونسل کو مواد استغاثہ نے ہی اکھٹا کرکے دینا ہے۔ میاں رضا ربانی نے کہا کہ وہ اس کا جواب کل دیں گے۔

جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دس رکنی فل کورٹ بنچ نے کیس کی سماعت منگل تک ملتوی کردی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے