پاکستان

مشرف کے حق میں عدالتی فیصلہ جسٹس فائز کے دفاع میں

جنوری 21, 2020

مشرف کے حق میں عدالتی فیصلہ جسٹس فائز کے دفاع میں

”افسوس کے ساتھ مشرف غداری کیس سننے والی خصوصی عدالت کوغیر آئینی قرار دینے کے فیصلے کو اپنے حق میں بطور عدالتی نظیر پیش کرنا چاہتا ہوں۔“ سابق چیئرمین سینیٹ، وکیل سندھ بار کونسل میاں رضا ربانی نے یہ بات سپریم کورٹ کے دس رکنی فل کورٹ کے سامنے جسٹس قاضی فائز کا دفاع کرتے ہوئے کہی۔

رپورٹ: جہانزیب عباسی

سپریم کورٹ میں جسٹس عمرعطاء بندیال کی سربراہی میں دس رکنی فل کورٹ صدارتی ریفرنس کیخلاف اب تک 23سماعتیں کر چکا ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سمیت متعدد بار کونسلز اور بار ایسوسی ایشنز نے صدارتی ریفرنس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کررکھا ہے۔

سندھ بار کونسل کے وکیل میاں رضا ربانی نے پرویز مشرف کی سماعت کرنیوالی خصوصی عدالت کو غیر آئینی قرار دینے کے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا اگر بنیاد غیرآئینی ہو تو عمارت کو قائم نہیں رکھا جاسکتا،میں افسوس کیساتھ لاہورہائیکورٹ کے ایک فیصلے کا حوالہ دینا چاہتا ہوں جس میں یہ طے کیا گیا،میں اُس فیصلے سے متفق نہیں ہوں یہ ایک بُری مثال ہے،سپریم کورٹ کے حکم کے بعد عدالت قائم کی گئی تھی،لاہورہائیکورٹ کے فیصلے میں عدالت کو غیر آئینی قرار دے دیا گیا۔

واضح رہے غداری کیس میں خصوصی عدالت نے مشرف پھانسی کو سزا سنائی تھی۔لاہورہائی کورٹ نے مشرف کی درخواست پر خصوصی عدالت کو ہی غیر آئینی قرار دے دیا تھا۔اپوزیشن کے دو بڑی جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہیں۔

پاکستان کی عدالتی تاریخ میں ایسی مثالیں بھی موجود ہیں جہاں متاثرہ فریق ایک مقام پر اپنے خلاف عدالتی فیصلے پر تحفظا ت کا اظہا رکرتا ہے تو دوسری جگہ اُسی فیصلے کو اپنے حق میں بطور عدالتی نظیر بھی پیش کرتا ہے۔ پاناما کیس فیصلے کی مثال بھی ایسی ہی ہے۔

پاکستان مسلم لیگ ن نے پاناما کیس کو ہمیشہ تسلیم کرنے سے انکار کیا لیکن لیگی رہنما حنیف عباسی کی طرف سے عمران خان کیخلاف دائر کی گئی نااہلی کی درخواست میں لیگی رہنما کے وکیل نے متعدد بار پاناما کیس فیصلے کا حوالہ دیا اور کہا جو قانون پاناما کیس میں طے کیا گیا ہے اُسی قانون کا اطلاق کرکے عمران خان کو نااہل قرار دیا جائے۔

اسی طرح جب سپریم کورٹ نے پاناما کیس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو آرٹیکل 62ون ایف کے تحت نااہل قرار دیا گیا تو یہ سوال اٹھا کہ نااہلی تاحیات ہے یا وقتی؟اس سوال کی تشریح کیلئے سپریم کورٹ نے بنچ قائم کیا اور متاثرین کو نوٹس جاری کیے۔جب تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کے وکیل سے پوچھا گیا تو انھو ں نے سپریم کورٹ کو بتایا وہ تاحیات نااہلی کے مخالف ہیں۔جہانگیر ترین کو بھی سپریم کورٹ نے آرٹیکل 62ون ایف کے تحت اثاثے چھپانے کی بنیاد پر نااہل قرار دیا تھا۔یہ الگ بات ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کا بطور سیاسی جماعت یہ موقف رہا ہے کہ 62ون ایف کے تحت نااہلی تاحیات ہے۔

صدارتی ریفرنس کیخلاف کیس کی سماعت کے دوران سندھ بار کونسل کے وکیل میاں رضا ربانی نے دلائل میں کہا اعلیٰ عدلیہ کے جج کیخلاف شکایت پر صدر کو آزادانہ اپنا ذہن استعمال کرنا چاہیے،معلومات نامکمل ہوں تو صدر دوبارہ جائزہ لینے کیلئے معاملہ واپس بھیج سکتا ہے۔

میاں رضا ربانی نے مزید کہا جوڈیشل کونسل عدالت نہیں ہے،سپریم کورٹ سے اس لیے رجوع کیا گیا کیونکہ جوڈیشل کونسل صدارتی ریفرنس کی بدنیتی کا جائزہ نہیں لے سکتی۔

جسٹس منصور علی شاہ نے سوال اٹھایا کیا اعلیٰ عدلیہ کے جج کیخلاف حکومتی ادارے انکوائری کر سکتے ہیں۔رضا ربانی نے جواب دیا ایسا نہیں کیا جاسکتا،شواہد اکھٹے کرنے کا مطلب انکوائری نہیں بلکہ بکھری ہوئی چیزوں کو اکھٹا کرنا ہے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلا ف مکمل انکوائری کی گئی،ایف آئی اے میں خصوصی ملاقاتیں ہوتی رہیں،جب انکوائری کر کے حتمی رائے دے دی گئی تو کونسل کا کیا کام رہ گیا۔

رضا ربانی نے کہا اٹھارویں ترمیم کے بعد عدلیہ کو ایگزیکٹو کے ہاتھوں سے مکمل آزاد کر دیا گیا۔جب وزیر اعظم کا اعلیٰ عدلیہ کے جج کی تقرری میں کردار نہیں تو پھر انکوائری میں کردار کیسے ہوسکتا ہے۔جسٹس عمر عطاء بندیال بولے وزیر اعظم حکومت کے سربراہ ہیں اگر وزیر اعظم کچھ نہیں ہیں تو پھر پورا نظام کیسے بچے گا،وزیر اعظم کو پارلیمنٹ کی اکثریت حاصل ہوتی ہے،وزیراعظم کااحترام ہے۔رضا ربانی نے کہا میں بھی وزیر اعظم کا احترام کرتا ہوں۔

رضا ربانی نے دلائل میں مزید کہا انتظامیہ،وزیراعظم اور صدر کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ انکوائری کا حکم دیں،جج کیخلاف انکوائری کرنے کی ہدایت دینے کا اختیار صرف جوڈیشل کونسل کو حاصل ہے، صدارتی ریفرنس کیساتھ خصوصی برتاؤ نہیں کیا جاسکتا،کونسل کی حتمی رائے کو صدر منظور یا رد کرنے کے مجاز ہیں۔

میاں رضار بانی نے سپریم کوبتایا وہ کل پندرہ منٹ میں اپنے دلائل مکمل کر لیں گے۔جسٹس عمر عطاء بندیال بولے آپ کے دلائل مکمل ہونے کے بعد ایڈووکیٹ رشید اے رضوی دلائل کا آغار کریں گے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے