پاکستان

’جسٹس قاضی فائز کی جاسوسی کرنا غلط تھا‘

جنوری 22, 2020

’جسٹس قاضی فائز کی جاسوسی کرنا غلط تھا‘

پاکستان کی سپریم کورٹ نے کہا ہے ایسٹ ریکوری یونٹ کو انٹیلی جنس ایجنسیوں سے مدد لینے کا اختیار دینا جان بوجھ کر کسی کو پھنسانے کے مترادف ہے، غیر قانونی طریقے سے اکھٹی کی گئی معلومات کو جائز قرار دینے کی مثال اُس درخت جیسی ہے جس کا پھل زہریلاہو جاتا ہے۔

وکیل میاں رضا ربانی نے عدالت کو بتایا فیض آباد دھرنا کیس اور سانحہ بارہ مئی کا فیصلہ دینے کی وجہ سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس کے کے آغا کے خلاف صدر نے سپریم جوڈیشل کونسل کو ریفرنس بھیجے۔

رپورٹ: جہانزیب عباسی

سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کے خلاف کیس میں ایسٹ ریکوری یونٹ (اے آر یو) کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھادیئے گئے۔کیس کی سماعت کے دوران سندھ بار کونسل کے وکیل میاں رضا ربانی نے دلائل میں کہا ایسٹ ریکوری یونٹ کے ساتویں ضابطہ کار کے تحت نیب،ایف بی آر،ایف آئی اے اور قانون نافذ کرنیو الے اداروں کے علاوہ انٹیلی جنس اداروںسے بھی مواد کے حصول کیلئے مدد لی جاسکتی ہے،یہ آزاد عدلیہ کی خود مختاری سے متصادم ہے،ایسٹ ریکوری یونٹ کے ذریعے اعلیٰ عدلیہ کے ججز سمیت شہریوں کے زندگی میں مداخلت کا اختیار دے دیا گیا۔

بنچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال بولے ہمارے لیے یہ بات ) Witch Hunt))آنکھیں کھولنے اور کسی کو جان بوجھ کر پھنسانے کے مترادف ہے۔

رضا ربانی نے دلائل میں کہا ایسٹ ریکوری یونٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف مکمل تحقیقات کیں،ایسٹ ریکوری یونٹ کسی قانون کے زیر انتظام نہیں ہے اُس کی حیثیت غیر قانونی ہے۔

سندھ بار کونسل کے وکیل نے دلائل میں کہا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ دیا اُس فیصلے کیخلاف تحریک انصاف اور ایم کیو ایم نے سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے،اسی طرح سانحہ بارہ مئی کا فیصلہ جسٹس کے کے آغاخان نے دیا جس کی وجہ سے اُن کے خلاف ریفرنس دائر کیا گیا۔

جسٹس عمرعطابندیال بولے آپ نے ایک سیاسی جماعت(ایم کیو ایم) کا نام لیا، کیا یہ بات جج صاحب نے آپ کو خود بتائی ہے یا آپ خو د سے یہ تاثر قائم کر رہے ہیں۔رضا ربانی نے جواب دیا حالات و واقعات ایسا بتا رہے ہیں ۔ جسٹس عمر عطابندیال نے کہا آپ نے بغیر شواہد کے ایک سیاسی جماعت کا نام لے لیا،کیاآپ کا یہ اندازہ ہے،یہ بدنیتی ہے۔رضا ربانی نے کہا ایم کیو ایم کے کارکنان نے عدالت پر دہاوا بھی بولا،ایک مرتبہ عدالت کیلئے سماعت کرنا بھی مشکل ہوگیا تھا،یہ بات اندازے سے زیادہ ہے۔

میاں رضا ربانی کے دلائل مکمل ہونے کے بعد رشید اے رضوی نے سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن،کراچی بار ایسوسی ایشن اور پی ایف یو جے کی طرف سے پیش ہو کر دلائل دیئے۔

ایڈووکیٹ رشید رضوی نے کہا ایسٹ ریکوری یونٹ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے،اعلیٰ عدلیہ کے جج کیخلاف ریفرنس دائر کرنا ایک داغ ہے جو ہمیشہ اُس کیساتھ رہتا ہے،کیا صدر ہر شکایت کو سپریم جوڈیشل کونسل بھیجنے کا پابند ہے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ریفرنس پر نمبر 4سو 76لگایا گیا اس کا مطلب یہ ہوا اس سے قبل 4سو 75ریفرنس ایک سال میں مسترد ہوئے،جوڈیشل کونسل نے صرف جسٹس فرخ عرفان اور جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف ریفرنس سنا،اگر ہر ریفرنس کونسل میں بھیج دیا جائے تو پھر سپریم کورٹ اور کوئی کام نہیں کرے گی صرف ریفرنس ہی چلیں گے۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے سوال اٹھایا فرض کریں میرے نام پر ایک جائیداد ہے جو میں نے اثاثوں میں ظاہر نہیں کی،میری جائیداد کے مصدقہ دستاویزات غیر قانونی طریقے سے حاصل کیے جائیں تو کیا وہ معاملہ کونسل کو بھیجا جاسکتا ہے۔

ایڈووکیٹ رشیداے رضوی نے جواب دیا صدر کو آئین اور اپنے حلف کے مطابق کام کرنا ہے،کہیں ایسا نہ ہو ایک ایس ایچ او جا کر شکایت درج کروا دے کہ میں فلاح جج صاحب کا پڑوسی ہوں اُن کی اثاثو ں کی انکوائری کریں۔

جسٹس فیصل عرب نے سوال اٹھایا عدلیہ کے احتساب اور عدلیہ کی خودمختاری میں کیا توازن ہے۔ایڈووکیٹ رشید اے رضوی نے جواب دیا احتساب شفاف ہونا چاہیے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے مقدمے میں جو ہوا وہ شفاف احتساب نہیں ہے۔

جسٹس منیب اختر نے کہا غلط طریقے سے اکھٹی کی گئی معلومات سامنے آنے پر کیا صدر دوبارہ قانون کے مطابق معلومات اکھٹی کرنے کا کہہ سکتے ہیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ غلط طریقے سے اکھٹی کی گئی معلومات کو جائزقرار دینا زہریلے پھل جیسی ہے،غیر قانونی طریقے سے اکھٹے گئے مواد تو اگر تسلیم کر لیا گیا تو اس سے ہمیشہ کیلئے دروازہ کھل جائے گا۔

جسٹس عمر عطابندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دس رکنی فل کورٹ بنچ نے مقدمے کی 23ویں سماعت آئندہ پیر تک ملتوی کردی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے