پاکستان24 متفرق خبریں

وکیل کرنل انعام رہا، بیماری کیا ہے؟

جنوری 24, 2020

وکیل کرنل انعام رہا، بیماری کیا ہے؟

پاکستان میں لاپتہ افراد کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے وکیل کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کو فوجی حکام نے مشروط طور پر رہا کر دیا ہے۔

انعام الرحیم کو گذشتہ ماہ 17 دسمبر کو آدھی رات کے وقت راولپنڈی میں ان کی رہائش گاہ سے اغوا کیا گیا تھا۔ بعد ازاں ان کے بیٹے کی جانب سے والد کی بازیابی کے لیے ہائیکورٹ میں درخواست پر فوجی حکام نے بتایا تھا کہ کرنل انعام ان کی تحویل میں ہیں اور ان پر جاسوسی کے الزامات عائد کیے گئے۔

جمعرات کی شب سپریم کورٹ کے حکم نامے کے بعد رہا کیے جانے سے قبل کرنل انعام کا طبی معائنہ راولپنڈی کے بے نظیر بھٹو ہسپتال میں عدالتی ہدایت پر بننے والے میڈیکل بورڈ سے کرایا گیا۔

واضح رہے کہ جاسوسی کے الزامات عائد کیے جانے کے بعد عدالت کو مطمئن نہ کرنے پر لاہور ہائیکورٹ نے انعام الرحیم کی رہائی کا حکم جاری کیا تھا جس پر فوجی حکام نے عمل نہ کیا اور وزارت دفاع کے ذریعے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی۔

تین ہفتے قبل سپریم کورٹ کے حکم پر بھی انعام الرحیم کو عدالت میں پیش نہ کیا گیا اور اٹارنی جنرل نے ’ملزم‘ کی ’جاسوسی کے ثبوت‘ جلد سامنے لانے کا کہا تاہم دو سماعتوں کے بعد عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ کو آگاہ کیا کہ کرنل انعام کی صحت خراب ہے اور ان کو مشروط طور پر رہا کیا جا سکتا ہے۔

رہا ہو کر گھر پہنچنے پر وکیل انور ڈار لاپتہ افراد کے وکیل کرنل انعام کو پھول پیش کر رہے ہیں۔ فوٹو: سوشل میڈیا

انعام الرحیم کی جانب سے عدالت میں پیش ہونے والے شیخ احسن الدین ایڈووکیٹ نے پاکستان ٹوئنٹی فور کو بتایا کہ ان کی اپنے مؤکل سے بات ہوئی ہے اور لاپتہ کیے جانے والے وکیل رہائی کے بعد صحت مند ہیں۔

کرنل انعام سے ان کے گھر پر ملاقات کرنے والے ان کے وکیل انور ڈار نے پاکستان ٹوئنٹی فور سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’اللہ کے شکر سے وہ مکمل صحت مند ہیں، انعام الرحیم کو کسی قسم کی کوئی بڑی بیماری نہیں۔‘

یاد رہے کہ اٹارنی جنرل نے وزارت دفاع کی جانب سے کرنل انعام کی رہائی کی شرائط میں ان کے پاسپورٹ کا تحویل میں لیا جانا اور تحقیقات میں تعاون کرنے کو شامل کیا تھا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے