ایران پاکستان گیس منصوبہ رک گیا
پاکستان میں پارلیمنٹ کے ایوان بالا سینیٹ کو وزارت توانائی نے تحریری جواب میں بتایا ہے کہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے پر کام ایران پر پابندیوں کے باعث رک گیا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ وفاقی کابینہ کی منظوری کے ساتھ ایران اور پاکستان نے گیس پائپ لائن ترمیمی معاہدے پر دستخط کیے جس کے تحت پاکستان اور ایران کو منصوبہ مکمل کرنے مزید پانچ سال کا عرصہ دیا جائے گا
وزارت کے مطابق پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر پیش رفت امریکی پابندیاں اٹھائے جانے سے وابستہ ہیں جبکہ پاکستان میں تیل اور گیس کی تلاش کے شعبے میں پچاس کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔
سینیٹ کو بتایا گیا کہ تیل اور گیس تلاش کرنے والی کمپنیوں میں 15 مقامی اور 35 غیر ملکی کمپنیاں ہیں۔ گیس کی تلاش میں کیکڑا ون بلاک کی 5693 میٹر گہرائی تک کھدائی کی گئی تاہم بدقسمتی سے کیکڑا ون کا کنوں خشک تھا ل۔
وزارت نے بتایا ہے کہ اس وقت گہرے سمندر میں تیل اور گیس کی تلاش کے 12 بلاکس ہیں، یہ بلاکس وزارت دفاع سے سکیورٹی کلئیرنس کے بعد منظور کیے جائیں گے۔

