متفرق خبریں

مونال زمین الاٹمنٹ کی تحقیقات

جنوری 30, 2020

مونال زمین الاٹمنٹ کی تحقیقات

پاکستان کی سپریم کورٹ کو اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے سی ڈی اے نے بتایا ہے کہ شہر کے دو شاپنگ مالز سمیت 13 منصوبوں میں ماسٹر پلان خلاف ورزی کی تحقیقات شروع کی گئی ہیں۔

ایک رپورٹ میں سی ڈی اے نے اسلام آباد تجاوزات کیس میں سپریم کورٹ کو آگاہ کیا ہے کہ مونال اور لا مونٹانا کو مارگلہ کی پہاریوں پر زمین الاٹمنٹ کی تحقیقات بھی کی جا رہی ہیں۔

واضح رہے کہ یہ زمین پرویز مشرف کے دور اقتدار میں الاٹ کی گئی تھی۔

عدالت کو بتایا گیا ہے کہ ڈسپنسری کی زمین پر صفا گولڈ مال کے قیام کی بھی تحقیقات جاری ہیں جبکہ سنٹورس مال کے پلاٹ کی الاٹمنٹ میں بے ضابطگی کے حوالے سے بھی تحقیقات ہو رہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں من پسند افراد کو سکول پلاٹس، جی نائن میں سینما پلاٹ کی شاپنگ مال کے لیے الاٹمنٹ کی بھی تحقیقات کے علاوہ گن کلب، سیدپور ویلج اور لیک ویو پارک میں غیرقانونی الاٹمنٹس کی بھی تحقیقات سی ڈی اے کر رہا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ ڈپلومیٹک شٹل سروس اور کوورڈ مارکیٹ میں اضافی دکانوں کی بھی تحقیقات جاری جبکہ وفاقی دارالحکومت کے لیے اسلام آباد بس سروس شروع کرنے کا بھی منصوبہ ابتدائی مرحلے میں ہے۔

عدلت کو آگاہ کی گیا ہے کہ حکومت نے فنڈز دیے تو ایک سال میں بس سروس شروع ہو جائے گی جس کے تحت ابتدائی طور پر چھ روٹس پر 106 جدید ایئرکنڈیشنڈ بسیں چلائی جائیں گی۔

رپورٹ کے مطابق بسوں کیلئے سڑکوں پر الگ لینز مختص کی جائیں گی۔

سی ڈی اے کی عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق تجاوزات کے خلاف 139 آپریشنز میں 1293 تعمیرات مسمار کی گئیں جبکہ غیرملکی سفارتخانوں کو وزارت خارجہ کے ذریعے تجاوزات ہٹانے کا کہا گیا ہے، سفارتخانوں نے ازخود تجاوزات نہ ہٹائیں تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

رپورٹ کے مطابق میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد کو فنڈ حکومت نہیں سی ڈی اے دے رہا ہے، سی ڈی اے اب تک میٹروپولیٹن کارپوریشن کو 19 ارب روپے قرض دے چکا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سی ڈی اے قرض کی ادائیگی وفاقی کابینہ کے فیصلے کے تحت دے رہا ہے، لوکل گورنمنٹ کو قرض دینے سے سی ڈی اے خود مالی مشکلات کا شکار ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے