گرفتار کارکنوں کی رہائی کے لیے آوازیں
رستم اعجاز ستی ۔ صحافی / اسلام آباد
پاکستان کی عوامی ورکرز پارٹی نے اسلام آباد میں گرفتار کیے گئے نوجوان کارکنوں کے خلاف درج مقدمہ واپس لینے اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین عوام کے حقوق کے تحفظ کی دستاویز ہے اسے عوام کے حقوق کی پامالی کے لیے استعمال کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔
جمعرات کو عوامی ورکرز پارٹی کی ڈپٹی جنرل سیکرٹری عصمت شاہ جہان، ڈاکٹر فرزانہ باری، طوبی سید، سیاسی قائدین فرحت اللہ بابر، افراسیاب خٹک اور عثمان کاکڑ نے نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔
مقررین نے عوامی ورکرز پارٹی پنجاب کے صدر عمار راشد، نوفل سلیمی، سیف اللہ نصر،شاہ رکن عالم سمیت دیگر کارکنان کی اڈیالہ جیل سے فوری رہائی کا مطالبہ کیا اور خبردار کیا گیا کہ اگر پاکستان کو سوچنے سمجھنے والے نوجوانوں کے لیے جیل بنا دیا گیا تو یہ نہ صرف حکمرانی کے فرسودہ نظام بلکہ خود ملک کے مستقبل کو سوالیہ نشان بنا دے گا۔
مقررین نے لاہور سے محسن ابدالی کے اغواء کی سخت مذمت اور اغواکاریوں کی بڑھتی ہوئی لہر کو مسترد کیا گیا۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ نوجوان نسل قیمتی اثاثہ ہے مگر دوسری طرف باشعور اور پڑھے لکھے لوگوں کو جھوٹے مقدمات میں اٹھایا جا رہا ہے۔
عصمت شاہ جہان نے کہا کہ کافی عرصے سے عوامی ورکرز پارٹی پر ریاستی کریک ڈاؤن جاری ہے۔اسلام آباد میں جو ہوا وہ اہم ہے۔ ہم مظلوم تنظیموں کے ساتھ ہمیشہ کھڑے ہوتے ہیں لیکن چار روز قبل منظور پشتین کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کر رہے تھے کہ ہمارے گرد خار دار تاریں بچھا دی گئیں، ہمارے کارکنان کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ کارکنان کو گرفتار کیا گیا، چار گھنٹے تک سڑکوں پر گھماتے رہے کہ ان پر کیا ڈالا جائے۔ ہم چھ لوگ نکل آئے لیکن باقیوں پر غداری اور تشدد پر اکسانے کا بے بنیاد مقدمہ بنایا گیا۔
”آئین عوام کے حقوق کی پاسداری کا امین ہے لیکن ریاست پاکستان نے آئین کو بھی بطور ہتھیار استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔یہ لوگ سماج کا ضمیر ہیں اگر ضمیر مار دیں گے تو ملک کیسے چلے گا۔“
فرزانہ باری نے کہا کہ ریاست کو سمجھنا ہو گا کہ جس طرح ملک چلایا جا رہا ہے اس طرح نوجوان ملک نہیں چلنے دیں گے۔پڑھے لکھے نوجوانوں کے خلاف غداری کے مقدمات بنائے جا رہے ہیں،ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنا احتجاج جاری رکھیں۔افراسیاب خٹک نے کہا کہ کہتے ہیں سیاست دان کرپٹ ہیں لیکن ان سے گلے بھی ملتے ہیں ڈیل بھی کرتے ہیں دوسری طرف نوجوان جو عوام کی خدمت پر یقین رکھتے ہیں انکے خلاف مقدمات بنائے جا رہے ہیں۔میں لکھ کر دینا چاہتا ہوں کہ زبردستی کوئی حکومت نہیں چل سکتی،توپیں ،ٹینک،جہاز کچھ نہیں کر سکتے جب لوگ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔یہ تاریخ ہے۔انسانی حقوق کا معاملہ اندرونی معاملہ نہیں ہوتا،آپ عالمی عدالت انصاف جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کارکنان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔فرحت اللہ بابر نے کہا کہ عوامی ورکرز پارٹی کی سیاست مظلوم تحریکوں کی حمایت کی سیاست ہے۔حالیہ واقعہ بھی انکی اسی سیاست کا حصہ ہے،انہوں نے دیکھا پی ٹی ایم پر ظلم ہو رہا ہے تو انہوں نے آواز اٹھائی۔بے بنیاد مقدمات فوری واپس لیے جائیں۔
انہوں نے کہا اسوقت سیاسی جماعتیں اور وکلاء بھی بیک فٹ پر ہیں تو نوجوانوں نے فیصلہ کیا کہ ملک ایسے نہیں چلنے دینگے جیسے چلایا جا رہا ہے۔میں کہتا ہوں ان سے جنگ نہ لڑو،ان سے بات کرو۔آپ اپنے لوگوں سے بات کیوں نہیں کرتے،انہیں دھکے دے کر باہر کرنے کے بجائے ان سے مذاکرات کی داغ بیل ڈالو۔جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات ختم کیے جائیں۔شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جھوٹے بے بنیاد مقدمات کے خاتمے اور کارکنان کی رہائی تک احتجاج جاری رہے گا۔

