متفرق خبریں

چرس کی فیکٹری لگائیں گے یا ادویات کی؟

فروری 3, 2020

چرس کی فیکٹری لگائیں گے یا ادویات کی؟

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے اِنسدادِ منشیات شہریار آفریدی نے اپنے آبائی علاقے کوہاٹ میں ایک تقریر کے دوران علاقے میں منشیات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے فیکٹری لگانے کا اعلان کیا ہے جس پر بعض سوشل میڈیا صارفین نے ان کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ چرس کا کارخانہ لگانے کی بات کر رہے ہیں۔

شہریار آفریدی نے اپنی تقریر کی وضاحت کی ہے اور ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ مخالفین پروپیگنڈہ کر رہے ہیں۔

وفاقی وزیر کی سوشل میڈیا پر زیر گردش 30 سیکنڈز دورانیے کی ویڈیو چونکہ پشتو میں ہے اس لیے سینکڑوں صارفین نے اس کو درست سمجھ کر طنز و مزاح کیا ہے۔

شہریار آفریدی نے اس کلپ میں جو کہہ رہے ہیں اس کا مطلب کچھ یوں بنتا ہے کہ:

’ہم ہر سال ہیروئین، چرس اور افیون بہت بڑی مقدار میں پکڑتے اور جلا دیتے ہیں جبکہ دوسرے ممالک میں ان سے ادویات بنائی جاتی ہیں۔ اب ہم ایک فیکٹری بنا رہے ہیں اور یہ عمران خان کی یہ خواہش ہے۔ اس کی فیکٹری پر کام شروع ہے، عمران خان کا ارادہ ہے، ہم یہ فیکٹری تیراہ (ضلع خیبر کا علاقہ وادی تیراہ) میں لگائیں گے تاکہ ان علاقوں کے لوگوں کی زندگی (روزگار ملنے سے) بہتر ہو جائے۔‘

شہریار آفریدی نے سوشل میڈیا پر اپنے خطاب کی ویڈیو سامنے آنے اور صارفین کے طنز و مزاح کو دیکھتے ہوئے ٹوئٹر پر وضاحتی بیان جاری کیا۔

انہوں نے لکھا کہ ’یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر جھوٹے الزامات کے ساتھ وائرل ہے۔ ’میں کوہاٹ میں اپنے قبائلی عوام کو بتا رہا تھا کہ حکومت تیراہ اور دیگر قبائلی علاقوں میں نامیاتی دوائیں بنانے کے کارخانے لگائے گی۔‘

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ’مزید یہ کہ ہیمپ آئل (بھنگ کا تیل) اور سی بی ڈی آئل کی فیکٹریاں لگائیں گے جس سے نوجوانوں کو روزگار ملے گا اور ملکی برآمدات میں بھی اضافہ ہو گا۔ لگتا ہے سیاسی مخالفین کے میڈیا سیل کے پاس اب جھوٹ بیچنے کے سوا کچھ نہیں بچا۔‘

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے