پاکستان 21ہزار عازمین حج کوٹہ سے محروم
عبدالجبار ناصر ۔ صحافی / اسلام آباد
چھٹی مردم شماری 2017ء کے حتمی اعدادوشمار جاری نہ ہونے کی وجہ سے رواں برس ایک بار پھر پاکستان تقریباً 21 ہزار عازمین حج کے کوٹہ سے محروم رہے گا اور پانچویں مردم شماری 1998ء کے مطابق ایک لاکھ 79 ہزار 210 عازمین حج کا کوٹہ ہی ملے گا ، جبکہ چھٹی مردم شماری 2017ء کے مطابق پاکستان کا کوٹہ 2لاکھ عازمین حج بنتاہے، رواں برس کے لئے ’’امر ملکی ‘‘ کوٹے کا فیصلہ بھی نہ ہوسکا ہے۔ وزارت مذہبی امور کے ذرائع کے مطابق سعودی عرب نے پاکستان کا حج کوٹہ چھٹی مردم شماری 2017ء کے مطابق 2 لاکھ عازمین کرنے کرتے ہوئے کہاہے کہ نئی مردم شماری 2017ء کے مصدقہ اعدادوشمار متعلقہ اداروں کو موصول نہیں ہوئے ہیں، اس لئے سابقہ کوٹہ ہی برقرار رہے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان 2 لاکھ عازمین حج کے کوٹے کے لئے 2 سال سے کوشش کر رہی تھی ۔ حکومت کا موقف تھا کہ چھٹی مردم شماری 2017ء کے مطابق پاکستان کا کوٹہ 2 لاکھ عازمین حج بنتا ہے ،جبکہ اس وقت پاکستان کو حج کوٹہ پانچویں مردم شماری 1998ء کے مطابق ایک لاکھ 79 ہزار 210 مل رہا۔ حج 2020ء میں بھی حکومت پاکستان نے ایک لاکھ 79 ہزار 210 عازمین حج کے حساب سے حج پالیسی جاری کی ہے ۔چھٹی مردم شماری 2017ء کی حتمی رپورٹ جاری نہ ہونے سے پاکستان کو 20ہزار 790 عازمین حج کے کوٹے کا نقصان ہوا ہے۔نئی حج پالیسی کے مطابق ایک لاکھ 7ہزار 526 عازمین سرکاری حج اسکیم اور 71ہزار 684 نجی حج آرگنائزرز کے ذریعے حج 2020ء کی سعادت حاصل کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے متعلقہ حکام نے’’ امر ملکی ‘‘کے تحت خصوصی کوٹے کے حوالے سے بھی فی الحال واضح جواب نہیں دیاہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال ’’امر ملکی ‘‘ کے تحت 7 ممالک کو خصوصی کوٹہ جاری ہوا تھا ، جو مختلف تھا اور اس بار امکان یہ ہے کہ اگر یہ کوٹہ ملا تو پھر یکساں حکمت عملی ہوگی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال حکومت حج کوٹے میں اضافے میں ناکام رہی اور اس بار بھی کوٹے کا حصول ممکن نہیں ہواہے۔چھٹی مردم شماری 2017ء کی رپورٹ حتمی منظوری کے لئے گزشتہ 2 سال سے حکومتی ٹیبل پر ہے۔

