عدالت کو ڈاکخانہ سمجھ رکھا ہے؟ ہائیکورٹ
اسلام آباد ہائیکورٹ کےجسٹس محسن اخترکیانی نے حکم دیا ہے کہ سیکرٹری دفاع، سیکرٹری داخلہ اور انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد تھانہ لوہی بھیر کی حدود سے لاپتہ شہری سلمان فاروق کو آئندہ سماعت 13 مارچ تک عدالت میں پیش کریں بصورت دیگر ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
گذشتہ روز لاپتہ شہری کے والد پروفیسرمحمد شریف چوہدری کی طرف سے دائر درخواست پر سماعت کےدوران وزارت داخلہ نے رپورٹ عدالت میں جمع کرائی۔
عدالت نے پوچھا کہ وزارت دفاع سے بھی رپورٹ طلب کی تھی وہ کہاں ہے؟ وزارت داخلہ کے نمائندہ نے کہاکہ لاپتہ شہری ہمارے کسی ادارے کے پاس نہیں۔ اس پر عدالت نے کہاکہ معلومات اکٹھا کرنا تو ایجنسیوں کا کام ہے۔ رپورٹ میں لکھا ہے کہ نو انفارمیشن، جس کا مطلب ہے لاپتہ شہری معصوم اور بے گناہ ہے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہاکہ کیا سپیشل انوسٹی گیشن میں اسلام آباد پولیس کے علاوہ دوسری ایجنسی کو نہیں رکھتے؟ وفاقی پولیس کے نمائندہ نے کہاکہ پولیس کے علاؤہ اگر کسی دوسرے ادارے کے افسر کو رکھنا ہو تو جے آئی ٹی بناتے ہیں۔
عدالت نے کہاکہ ایک شہری کو پانچ مہینے پہلے لاپتہ کیا جاتا ہے گاڑیاں بھی نظر آرہی اور کسی کو کچھ نہیں پتہ۔
عدالت نے نمائندہ اسلام آباد پولیس اور وزارت داخلہ پر برہمی کا اظہار کرتےہوئے کہاکہ شہری پاکستان کی سرزمین سے لاپتہ ہوا ہے اور اداروں کو کچھ نہیں پتہ، حکومت پاکستان کی زمہ داری ہے کہ وہ شہری کو عدالت پیش کریں۔ آپ لوگوں کو حکومت پاکستان آپ کی ڈیوٹی کی تنخواہ دیتی ہے، شہری کو ڈاکو لے گئے یا کوئی اور، مجھے بندہ چاہیے، شہری کا لاپتہ ہونا، ریاست کی ناکامی ہے،عدالت کو ڈاکخانہ نہ سمجھیں، یہ ہائیکورٹ ہے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نےکہاکہ لاپتہ شہریوں کے کیس پر وزارت داخلہ، اور دفاع کو 20, 20 لاکھ جرمانہ کرچکا ہوں، اس میں بھی کرونگا،سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری دفاع اور آئی جی اسلام آباد کو گھر بھیج دوں گا، بندہ جس کے پاس بھی ہے، افغانستان ہے یا انڈیا، عدالت میں پیش کریں۔
اس موقع پر درخواست گزارپروفیسرشریف نے کہاکہ میرے بچے کو اٹھایا گیا، پی ایچ ڈی اور سکالرشپ کے مواقع ان سے ضائع ہوگئے، جس پر عدالت نے کہاکہ یہ شہری کو چھوڑیں گے نہیں تو میں انہیں نہیں چھوڑوں گا۔
عدالت نےسلمان فاروق لاپتہ شہری کو عدالت پیش کرنے کے لئے آئی جی اسلام آباد پولیس، سیکرٹری دفاع اور سیکرٹری داخلہ کو ہدایت جاری کرتےہوئے کیس کی سماعت 13 مارچ تک ملتوی کردی۔

