پاکستان

اہم مسجد کی امامت پر مولویوں میں جھگڑا

فروری 16, 2020

اہم مسجد کی امامت پر مولویوں میں جھگڑا

عبید عباسی ۔ صحافی / اسلام آباد

اسلام آباد کی مشہور مسجد شہدا جس کا سنگ بنیاد سابق آمر جنرل ضیاء الحق سے 1980 کی دہائی میں رکھا تھا وہاں سنیچر کی رات دو اماموں کے درمیان ممبر پہ قبضہ میں جھگڑا ہوا۔

زرائع کے مطابق، شہداء مسجد کے امام مولانا غلام رسول اور لال مسجد کے سابق نائب خطیب عامر صدیق کے درمیان نماز مغرب کے درمیان شدید جھگڑا ہوا اس وقت آیا جب عامر صدیق کے مسجد شہداء میں اپنی امامت کا چارج سنبھالے کے لیے مسجد کا رخ کیا تو ریٹائرڈ امام غلام رسول نے مذمت کی جس کی وجہ شدید جھگڑا ہو۔

زرائع کے مطابق، دروان لڑائی مسجد کا تقدس پامال ہوا، اور گالم گلوچ بھی ہوئی۔

زرائع کے مطابق، عامر صدیق جس سرکاری اہلکار کو ساتھ لے کر آئے تھے، اس کو ایک تاجر نے تھپڑ مارا ۔

واضح رہے کہ 26 ستمبر 2019 کو محمکہ اوقاف نے عامر صدیق کا تبادلہ مسجد شہداء میں کیا، لیکن غلام رسول مسجد شہداء کو چھوڑنے کے لیے تیار نیں، زرائع کے مطابق غلام رسول سرکاری رہاہیش جس میں 10مرحلہ کا مکان اور کشادہ صحن بھی شامل ہے کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔

دوسری جانب زرائع نے دعوی کیا ہے کہ آبپارہ مارکیٹ کی یونین کا بھی اس سارے معاملے میں عمل دخل ہے۔ تاجروں کا ایک گروپ غلام رسول کو سپوٹ کر رہا ہے اور دوسرا گروپ عامر صدیق کو لانا چاہتا ہے۔

ڈپٹی کمشنر اسلام ْآباد حمزہ شفقات نے پاکستان 24 سے بات کرتے ہوئے واقعہ کی تصدیق کی اور کہا کہ انھوں نے اس واقعہ کا نوٹس لے لیا۔

انھوں نے مزید کہا انتطامیہ لال مسجد میں مصروف رہی جس کی وجہ سے اس معاملے میں توجہ میں دی سکی.

آبپارہ مارکیٹ ویلفیر یونین کے سابق صدر ملک ظہیر نے پاکستان 24 سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مولانا غلام رسول دو سال پہلے ریٹائرڈ ہو گئے تھے لیکن وہ اپنی رہاہیش کی وجہ مسجد شہداء کو چھوڑنے کے لیے تیار نیں۔

انھوں نے مزید بتایا کہ مارکیٹ یونین عامر صدیق کو بھی قبول کرنے سے قاصر ہے۔ انکے مطابق عامر صدیق ایک متنازع شخصیت ہیں، اور شہداء مسجد کو لال مسجد نیں بننے دیں گے۔

اسلام آباد کے 80 فیصد مساجد میں امام حضرات ریٹائرمنٹ کے بعد مساجد صرف اس لیے نہیں چھوڑتے کیونکہ ان کو رہائش گاہ چھوڑنا پڑتی ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے