پاکستان

جسٹس فائز کیس: اٹارنی جنرل کا ناقابل اشاعت اعتراض

فروری 18, 2020

جسٹس فائز کیس: اٹارنی جنرل کا ناقابل اشاعت اعتراض

پاکستان کے اٹارنی جنرل انور منصور خان نے جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف صدارتی ریفرنس پر اپیلیں سننے والے دس رکنی بینچ پر ایسا اعتراض کیا ہے جس نے کمرہ عدالت میں موجود افراد کو حیران کر دیا جبکہ ججز بھی مشکل کا شکار ہوگئے۔

جہانزیب عباسی ۔ صحافی / اسلام آباد

سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل انور منصور نے دلائل دیتے ہوئے ایسی باتیں کیں جن پر عدالت نے ناراضگی کا اظہار کیا۔

اٹارنی جنرل انور منصور نے دلائل میں کہا کہ اس مقدمے میں کچھ باتیں ایسی ہوئیں جن کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ ( عدالت کی زبانی ہدایت پر شائع نہیں کی جا رہیں)

جسٹس مقبول باقر نے کہا آپ نے جو بات کہی وہ مناسب نہیں ہے. جسٹس منصور علی شاہ نے کہا آپ نے جو الزام لگایا اسے واپس لیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا آپ نے جو بھی بات کرنی ہے تحریری طور پر کریں۔

عدالت کے روسٹرم پر کھڑے ہو کر زبانی باتوں سے گریز کریں، آپ تحریری بات کریں پھر ہم اس کا جائزہ لے لیں گے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ ان کا سپریم کورٹ کے تمام جج صاحبان پر مکمل اعتماد ہے۔ جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ بہتر ہے آپ اپنی بات واپس لیں تاکہ سماعت آگے چل سکے۔

اٹارنی جنرل نے کہا مجھے اپنی بات واپس لینے میں کوئی مسئلہ نہیں.۔ جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ کیا آپ اپنی بات واپس لے رہے ہیں۔ اٹارنی جنرل نے جواب دیا جی ٹھیک ہے سر۔

جسٹس مقبول باقر نے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ اگر اٹارنی جنرل نے اپنی کہی بات واپس لے لی ہے تو اسے پبلش نہ کیا جائے۔

واضح رہے اٹارنی جنرل کے وہ دلائل جن پر عدالت نے ناراضگی کا اظہار کیا وہ تحریر نہیں کیے جاسکتے کیوں کہ جسٹس مقبول باقر نے کہا ہے کہ اٹارنی جنرل کی اپنی بات واپس لینے کی بناء پر اسے پبلش نہ کیا جائے۔

اٹارنی جنرل نے کہا صدارتی ریفرنس میں پوچھا گیا ہے کہ جائیدادوں کا جائزہ لیں، جوڈیشل کونسل نے دیکھنا ہے کہ جج نے مس کنڈکٹ کیا یا نہیں,مسئلہ یہ ہے کہ برطانیہ میں تین جائیدادیں خریدی گئیں,ایک جائیداد 2004 میں خریدی گئی جسکی 2011 میں تجدید ہوئی۔

اٹارنی جنرل نے دلائل میں مزید کہادوسری جائیداد 2013 میں خریدی گئی, 2004 میں جو جائیداد خریدی گئی وہ بہت اہم ہے,جسٹس فائز عیسی کی اہلیہ کا نام پاکستان میں رجسٹرڈ نہیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہااٹارنی جنرل صاحب پہلے بتائیں کہ ریفرنس کیسے بنایا گیا. اٹارنی جنرل نے کہا 2011 میں جائیداد میں بیٹی سحر علی کا نام بھی شامل کیا گیا, 2013 میں جائیدادیں اہلیہ,بیٹی اور بیٹے ارسلان کے نام خریدی گئیں، جوڈیشل کونسل میں جج نے کہا میری جائیدادیں نہیں ہیں، سارے سوالوں کا جواب دوں گا پہلے مجھے کیس بنانے دیں، جج کو خوف اور جانبداری کے بغیر فیصلہ کرنا چاہیے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کیا حلف کے مطابق خوف اور جانبداری بارے میں جج کا دماغی معائنہ کرنا چاہیے. اٹارنی جنرل نے کہا میں نے تو صرف جج کا حلف پڑھا،جائیداد تسلیم کرنے سے حقائق درست ثابت ہوئے،اب سوال یہ ہے کہ یہ جائیدادیں جج کو گوشواروں میں ظاہر کرنی چاہیں کے نہیں،سوال یہ ہے کی جائیدادیں بچوں اور اہلیہ کے نام پر ہونا درست ہے.جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا پہلے یہ بتا دیں ریفرنس میں الزام کیا ہے۔

عدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

تفصیل دیکھیے سینیئر صحافی مطیع اللہ جان کی ویڈیو رپورٹ میں

اٹارنی جنرل فوج سے کیپٹن کے عہدے تک پہنچنے کے بعد ریٹائرڈ ہو گئے تھے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے