اٹارنی جنرل ثبوت دیں یا معافی مانگیں
پاکستان کی سپریم کورٹ کے دس ججوں نے ملک کے اٹارنی جنرل سے کہا ہے کہ وہ ججز پر لگائے گئے الزام کا تحریری ثبوت دیں بصورت دیگر عدالت سے معافی مانگیں۔
سپریم کورٹ کے دس رکنی بینچ کے سربراہ نے اٹارنی جنرل پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بس بہت ہوگیا، یہ کوئی طریقہ کار نہیں ہے،بغیر تیاری کیے دلائل دیکر ہمارا وقت ضائع نہ کریں، ہم عدالت سے اٹھ کر جارہے ہیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ ریفرنس کو برقرار رکھنے کے لیے قانونی طور پر ثابت کرنا ہوگا بیوی بچوں کی بیرونی ملک جائیداد کو ظاہر کرنا لازم تھا، اٹارنی جنرل گزشتہ روز کی گئی بات تحریری صورت میں جمع کرائیں ورنہ تحریری معافی مانگیں۔
عدالتی حکم میں کہا گیا اٹارنی جنرل کی طرف سے لگایا گیا الزام کسی جج پر نہیں بلکہ پورے ادارے پر تھا۔
رپورٹ: جہانزیب عباسی
سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کی طرف سے مقدمے کی تیاری نہ کرکے آنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔
بنچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا جو باتیں آپ نے کہنی ہیں، آپ کی اس حوالے سے تیاری نہیں ہے، آپ عدالت کا وقت ضائع کررہے ہیں، کل بھی آپ نے ایک بڑی بات کی تھی،گزشتہ سماعت میں لگائے گئے الزامات سے متعلق تحریری جواب جمع کرائیں۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے کہامقدمے کے حوالے سے آپ کی کوئی تیاری نہیں ہے،یہ صدارتی ریفرنس کا مقدمہ ہے یا ایف آئی آر،صدارتی ریفرنس ٹھوس مواد پر مشتمل ہونا چاہیے، ہم چھ ماہ سے اس مقدمے کو سن رہے ہیں، آپ بغیر تیاری کے دلائل دے رہے ہیں۔
بنچ کے سربراہ نے اٹارنی جنرل کیپٹن ریٹائرڈ انور منصور پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا نہ آپ قانونی حوالہ دے رہے ہیں نہ ہی مرکزی مقدمے پر بات کر رہے ہیں، ہمارا وقت ضائع نہ کریں، ریفرنس کو برقرار رکھنے کے لیے قانونی طور پر ثابت کریں بیرونی ملک جائیداد کو ظاہر کرنا لازم تھا، ہم عدالت سے اٹھ کر جارہے ہیں،بس بہت ہوگیا، یہ کوئی طریقہ کار نہیں ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے کہا آپ ہمارے سوالات کا جواب دینے کے علاوہ باقی سب باتیں کررہے ہیں۔
اٹارنی جنرل نے کہا میں آپ کے سوالات کا جواب دوں گا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا ہمیں آپ کے جواب کا انتظار رہے گا. اٹارنی جنرل نے کہا میرا دلائل دینے کا یہی انداز ہے۔
عدالتی حکم میں کہا گیا اٹارنی جنرل نے بدھ کو اپنے دلائل میں ایک بات کہی تھی، اٹارنی جنرل کہی گئی بات کو تحریری صورت میں جمع کرائیں، اگر اٹارنی جنرل نے تحریری صورت میں نہ جمع کرائی تو معافی مانگیں، اٹارنی جنرل کا معافی نامہ تحریری صورت میں ہو، اٹارنی جنرل قانونی نکات کو تحریری صورت میں جمع کرائیں. کیس کی سماعت آئندہ پیر دن ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کردی گئی.
واضح رہے کہ منگل کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے صدارتی ریفرنس کے خلاف دائر درخواست کی سماعت میں عدالت نے اٹارنی جنرل انور منصور کے ججوں پر الزام کو شائع کرنے سے میڈیا کو روک رکھا ہے۔

