جسٹس فائز کے خلاف حکومتی وکالت سے معذرت
جہانزیب عباسی ۔ صحافی، اسلام آباد
پاکستان کے نئے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس قاضی فائز عیسی کی آئینی درخواست میں حکومت کی نمائندگی سے معذرت کر لی ہے۔
پیر کو اٹارنی جنرل خالد جاوید نے مقدمے میں وفاقی حکومت کی پیروی کرنے سے معذرت کے بارے میں عدالت کے دس رکنی بینچ کو آگاہ کیا۔
”اس کیس میں پیش نہیں ہو سکتا۔ اس مقدمے میں تصادم ہے حکومت کی نمائندگی نہیں کرسکتا۔“
پاکستان کی سپریم کورٹ نے مقدمے میں قرآنی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ گمان گناہ ہے لیکن جاسوسی اس سے بھی بڑا گناہ ہے.
عدالت نے وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کو یہ عندیہ دیا ہے کہ انھیں حکومت کی طرف سے پیش ہوکر دلائل دینے کیلئے وزارت چھوڑنا پڑے گی.اٹارنی جنرل خالد جاوید نے مقدمے کی پیروی سے معذرت کرلی.
اٹارنی جنرل خالد جاوید نے عدالت سے معذرت کرتے ہوئے کہا وہ جسٹس قاضی فائز عیسی کیس میں رائے دے چکے ہیں،حکومت کی طرف سے پیش ہو کر دلائل دینے سے معزرت خواہ ہوں.
وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے روسٹرم پر آکر کہا اس بات کا امکان بھی موجود ہے کہ میں وفاقی حکومت کی جانب سے پیش ہو کر دلائل دوں، 20 سے 25 مارچ تک ایک مقدمے میں ہم نے پیش ہونا ہے۔
جسٹس قاضی امین نے وزیر قانون فروغ نسیم سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کیا آپ وزارت سے مستعفی ہو کر وفاقی حکومت کی طرف سے دلائل دیں گے؟. وزیر قانون نے جواب دیا اگر عدالت کی طرف سے اجازت نہیں ملے گی تو ذاتی حیثیت سے دلائل دینا چاہوں گا۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ذاتی حیثیت سے پیش ہو کر دلائل دینے میں ہمیں کوئی اعتراض نہیں،کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ دلائل شروع کریں اور پھر نیا اعتراض اٹھ جائے،آپ کو وفاقی حکومت کی طرف سے دلائل دینے کیلئے اپنا لائیسنس بحال کرنا پڑے گا۔
وائس چیئرمین پاکستان بار عابد ساقی نے دلائل میں کہا ہم نے وزیر قانون فروغ نسیم اور سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کر رکھی ہے، درخواست سنی جائے.
جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا آپ کی درخواست کو آئندہ سماعت پر نمبر لگا دیں گے، آپ کی دی گئی درخواست تو ہم تک نہیں پہنچی لیکن عدلیہ کی آزادی سے متعلق آپ کے بیانات ہم تک پہنچتے رہتے ہیں۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے دوران سماعت قرآنی آیات کے حوالے دیتے ہوئے کہا قرآن ہدایات سے بھرپور ہے،قرآن میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ گمان پر کان نہ دھریں، جاسوسی گمان سے بھی بڑا گناہ ہے.
جسٹس عمر عطا بندیال نے وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا معاف کردینا بہتر ہے،مختلف اخبارات میں میرے حوالے سے مختلف خبریں شائع کی گئیں،خبروں میں کہا گیا کہ ایک سماعت کے دوران میری آواز اونچی ہو گئی تھی، میں نے اپنی آواز بلند کی اور ایسا نہیں ہونا چاہیئے تھا۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس میں مزید کہا اللہ کا حکم ہے کہ اپنی آوازیں نیچی رکھو،عابد ساقی صاحب آپ جس طرف نشاندہی کرتے رہے، بے فکر رہیں کوئی خطرے میں نہیں، انشاءاللہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔
ایڈووکیٹ عابد ساقی نے دلائل میں کہا کسی سے ذاتی دشمنی نہیں، یہ عوامی حقوق اور عدالتی توہین کا معاملہ ہے،اس مقدمے کا چونکا دینے والا پس منظر ہے،ججوں کی اور ان کے اہل خانہ کی جاسوسی ہوتی رہی،ججوں اور ان کے اہل خانہ کی جاسوسی ہونا افسوسناک عمل ہے،یہ اخلاقیات کے خلاف ہے۔
وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل نے مزید کہا اگر ملک کی سب سے بڑی عدلیہ کے ججز کے ساتھ یہ ہو رہا ہے تو ہم تو کیڑے مکوڑے ہیں،ہمیں اس معاملے میں خاموش نہیں رہنا چاہیئے،بار نے ہمشیہ عوام کی فلاح کیلئے کام کیا ہے،اگر وہ عدالت اور عوام کو مطمئن نہ کرسکیں تو توہین عدالت کی کاروائی ہونی چاہیئے.
جسٹس عمر عطا بندیال نے وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا عابد ساقی صاحب اپنی آواز دھیمی رکھیں۔ایڈووکیٹ عابد ساقی نے جواب دیامیرا ڈی این اے پرابلم ہے،میری گفتگو میں گستاخی کا پہلو شامل نہیں،دراصل میری آواز اتنی دبتی رہی ہے کہ جب بھی نکلتی ہے تو اونچی لگتی ہے۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاعدلیہ کوئی مقدس چیز نہیں ہے،عدلیہ پر بھی تنقید ہوتی ہے،ججز خود نہیں بلکہ ان کے فیصلے بولتے ہیں، فیصلے ہی ہماری ڈھال ہیں۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے مزید کہااسی روسٹرم پر آ کر ایک صاحب نے عدلیہ سے متعلق بڑی عجیب و غریب باتیں کہیں،بعد میں پتہ چلا کہ ان صاحب کا مقدمہ ہی خارج ہو چکا ہے،اس دن بار کو کچھ یاد نہیں آیا، لیکن اچھا ہوا، عابد ساقی صاحب آپ کی درخواست سماعت کیلئے مقرر ہو گی.
اٹارنی جنرل خالد جاوید نے کہا میں بھی کچھ بولنا چاہتا ہوں، عدلیہ کی خود مختاری پر آنچ نہیں آنے دیں گے، گمان پر بات کی گئی، میں ایک چیز واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اگر مجھے ذرا برابر بھی گمان ہوا تو عدالت مجھے یہاں نہیں دیکھی گی،میرا فرض عدلیہ کی آزادی، وقار اور ادارے کا تحفظ کرنا ہے۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا جو گزشتہ سماعت پر ہوا ایسا نہیں ہونا چاہیئے تھا، اس کا ایک نتیجہ بھی نکل آیا جو سب کے سامنے ہے۔
عدالت نے کیس کی سماعت 30 مارچ تک ملتوی کردی۔

