پاکستان

تیزگام حادثے کی 10 میتیں ناقابل شناخت ہیں

فروری 24, 2020

تیزگام حادثے کی 10 میتیں ناقابل شناخت ہیں

پاکستان ریلوے نے سانحہ تیز گام کی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ہے جبکہ سانحے کے متاثرہ خاندانوں کے افراد بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

ریلوے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر دوست محمد نے بتایا کہ حادثے میں کل اموات 87 ہیں۔ 10 میتوں کا ڈی این اے نہیں ہو سکتا۔ تمام متاثرہ خاندانوں کو ریلیف دیں گے۔

پیر کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے تیز گام ٹرین حادثہ کیس کی سماعت کی جہاں سی ای او ریلوے دوست محمد نے کہا کہ حادثے کی 10 میتوں کا ڈی این اے نہیں ہو سکتا، وہ خانیوال میں دفن ہیں۔

ڈی ایس پی ریلوے ملتان نے بتایا کہ ایف آئی آر درج کردی گئی ہے۔ درخواست گزار حنیف راہی نے موقف اپنایا کہ وفاقی وزیر برائے ریلوے نے تحقیقات کیے بغیر کہہ دیا کہ سلینڈر سے آگ لگی۔ موقع کے شواہد کو کیوں ضائع کیا گیا۔ متعلقہ تھانے میں ایف آئی آر کیوں نہیں درج کی گئی؟

ریلوے کے وکیل نے بتایا کہ ریلوے پولیس کا پورے پاکستان میں ایف آئی آر درج کرنے کا اختیار ہے۔ پنجاب حکومت کے پراسیکیوشن کو عبوری چالان جمع کرادیا ہے۔

ڈی ایس پی ریلوے ملتان نے بتایا کہ ایف آئی آر میں پولیس اور دیگر حکام جنہوں نے سلینڈر کا خیال نہیں رکھا، ان کو نامزد کیا گیا ہے۔

ایک متاثرہ خاندان کے فرد نے عدالت میں بیان دیا کہ ہمارے گیارہ لوگ حادثے میں مارے گئے۔ پاکستان ریلوے کے وکیل نے موقف اپنایا کہ تمام متاثرہ خاندانوں کو ریلیف دیں گے، صرف شناخت کر رہے ہیں۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ جب تک پوسٹ مارٹم نہیں ہوگا، موت ثابت نہیں ہوگی تو کیس چارج کس طرح ہوگا؟ 9/11 واقعے میں 7 سال میں پوسٹ مارٹم مکمل ہوئے۔

متاثرہ خاندانوں کے افراد کا کہنا تھا کہ کم زخمیوں کو 50 ہزار اور زیادہ زخمی ہونے والوں کو 1 لاکھ دیا ہے۔

وکیل حنیف راہی نے بتایا کہ 5 لاکھ کا کہا گیا، صرف 50 ہزار دیا ہے۔ اپنی مدد آپ کے تحت علاج کر رہے ہیں۔

ریلوے حکام نے موقف اپنایا کہ ابھی 12 لوگوں کی شناخت نہیں ہوئی۔ 10 کا ڈی این اے نہیں، 2 امانت کے طور پر دفن ہیں۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے کہ ریلوے پولیس کے کام میں کوئی مداخلت نہیں کر سکتا آپ اپنی تفتیش کر کے رائے دیں۔ اگر آپ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ وہ حادثے میں مر گئے تو ان کو ڈیتھ سرٹیفکیٹ بھی جاری کریں۔ اگر دس سال بعد وہ بندہ اٹھ کے آ جاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں زندہ ہوں تو یہ تمام لوگ پراسیکیوٹ ہوں گے۔ جو ورثا آئے ہیں ان کے بیانات لکھ لیں اور اپنی تفتیش مکمل کر لیں۔ جن لواحقین کو پیسے دیئے جاتے ہیں ان کا مداوا ہو جائے گا۔

ریلوے حکام نے جواب دیا کہ اب بہت سختی کر دی ہے، شناختی کارڈ چیک کیا جاتا ہے۔ ریلوے کے وکیل نے موقف اپنایا کہ ٹرین میں کیمرے لگائے جائیں گے، نائٹ وژن کیمروں سے رات کو بھی دیکھا جا سکے گا۔

عدالت نے کیس کی سماعت 14 اپریل تک ملتوی کر دی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے