’باپ کے خلاف مقدمہ آ جائے تو رعایت نہیں‘
پاکستان کے اٹارنی جنرل خالد جاوید نے کہا ہے کہ انہوں نے تعیناتی سے قبل ہی وزیراعظم عمران خان کو بتا دیا تھا کہ وہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سپریم کورٹ میں حکومت کی جانب سے پیش نہیں ہوں گے۔
بدھ کو پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ کے زیر اہتمام ایک تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے اٹارنی جنرل خالد جاوید نے کہا کہ ریکوڈک کیس پاکستان کی معاشی بقاء کا مقدمہ ہے۔ ’کیس ہار گئے تو پاکستان کے بین الاقوامی اثاثوں کو خطرہ لاحق ہو جائے گا۔‘
’ہماری بھرپور کوشش ہے کہ ریکوڈک کیس میں پاکستان کے حق میں آنے والا حکم امتناع مستقل ہوجائے، ذوالفقارعلی بھٹو کیس ہو یا پرویز مشر ف غداری کیس دیانت داری کے ساتھ عدالتی معاونت کروں گا۔‘
رپورٹ: جہانزیب عباسی
اٹارنی جنرل خالد جاوید نے سپریم کورٹ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان سے ملاقات میں واضح کہا کہ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کیس میں حکومتی دفاع نہیں کروں گا۔ ’میرا سیاسی پس منظر ضرور ہے لیکن میری کسی سے سیاسی وابستگی نہیں، وزیراعظم کی ترجیحات میں پاکستان کے خلاف چلنے والے بین الاقوامی مقدمات ہیں۔‘
اٹارنی جنرل نے ریکوڈک مقدمے پر بات کرتے ہوئے کہا ریکوڈک پاکستان کی معاشی بقاء کا مقدمہ ہے،یہ بڑا مشکل مقدمہ ہے،یہ مقدمہ پاکستان کی معیشت کیلئے خطرناک ہوگا،ہماری کوشش ہے ریکوڈک کیس کا فیصلہ پاکستان کے حق میں آئے،چوبیس فروری سے پہلے پیچھے نہیں دیکھوں گا۔
سپریم کورٹ میں زیر التوا ذوالفقار علی بھٹو ریفرنس کیس کا فیصلہ جلد کروانے سے متعلق سوال پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا میرے والد کے خلاف کوئی مقدمہ آ جائے تو میں وہاں بھی رعایت نہیں کروں گا، ذوالفقار علی بھٹو کیس ہو یا پرویز مشرف کا مقدمہ ہو دیانت داری کیساتھ عدالتی معاونت کروں گا۔
پاکستان کے سابقہ قبائلی علاقوں میں قائم حراستی مراکز کے مقدمے سے متعلق پوچھے گئے سوال پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا میں کسی مقدمے کو طویل کرنے یا دبانے کے حق میں نہیں ہوں،میں نے وزیر اعظم پاکستان کو جن زیر سماعت مقدمات کی ترجیح بنیاد پر سماعت بارے فہرست دی ہے ان میں حراستی مراکز کا مقدمہ بھی شامل ہے،درخواست گذارجسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی عزت سب پر لازم ہے،وزیر قانون فروغ نسیم کیساتھ آرام دہ ہوں،میں نے انگریزی اخبار میں چھپی خبر سے متعلق وزیر قانون سے پوچھا انھوں نے انکار کیا پھر تحریری صورت میں خط لکھ کر پوچھا کیونکہ زبانی باتیں خطر ناک ہوتی ہیں۔
اٹارنی جنرل نے کہا عدلیہ او ر حکومت کے درمیان پل کا کردار ادا کریں گے۔

’مجھے ایک درخواست گذار کی طرف سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں بطور وکیل پیش ہونے کیلئے کہا گیا تھا، ریکورڈ کیس میں پاکستان مشکل صورت سے دوچار ہے، ہر زیر سماعت مقدمے میں آزاد ذہن استعمال کرکے عدالتی معاونت کروں گا، جسٹس وقار سیٹھ کیخلاف ریفرنس دائر ہونے سے متعلق لاعلم ہوں، سپریم کورٹ میں ہر دستاویز اٹارنی جنرل کے ذریعے دائر ہوگا۔‘

