کورونا وائرس پر پاک فوج کا موقف
پاکستان کی فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے وزارت صحت اور حکومت نمٹ رہی ہے اور اگر فوج سے مدد طلب کی گئی تو تیار ہیں۔
جمعرات راولپنڈی کے فوجی ہیڈ کوارٹر میں اپنی پہلی پریس بریفنگ دیتے ہوئے میجر جنرل بابر افتخار نے دعویٰ کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران پاکستانی فوج نے القاعدہ کے ایک ہزار سے زائد شدت پسند پکڑے یا مارے ہیں۔
میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور ’دہشت سے سیاحت‘ تک کے سفر میں نہ صرف یہ کہ اس کے 80 ہزار سے زائد لوگ قربان ہوئے بلکہ 180 ارب ڈالر سے زیادہ کا مالی نقصان بھی ہوا۔
فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 1200 سے زائد چھوٹی بڑی فوجی کارروائیاں کی گئیں جبکہ ڈیڑھ لاکھ سے زائد خفیہ اطلاعات پر مبنی آپریشنز کیے گئے۔ ہزار سے زیادہ القاعدہ کے شدت پسند پکڑے یا مارے گئے۔ آج قبائلی علاقوں کا صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم ہو جانا امن کی جیت ہے۔‘
کورونا وائرس کے پاکستان میں پھیلاؤ اور سرحدوں سے آمدو رفت کے حوالے سے کیے گئے سوال کے جواب میں فوج کے ترجمان نے کہا کہ وزارت صحت اس معاملے کو دیکھ رہی ہے اور دیگر متعلقہ ادارے بھی اس پر کام کر رہے ہیں تاہم اگر فوج کی ضرورت محسوس کی گئی اور حکومت نے مدد طلب کی تو وہ اس کے لیے تیار ہیں۔

